30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے خالی ہو۔طبیعت اس میں نہیں ہوسکتی کہ اس کا وجود نہ ہونا مگر ضمن فرد میں اور یہ ظرف ہرر فرد سے خالی،لہذا قطعًا طبیعت سے بھی خالی اس سے گلاب کی مثال کو کیا مس ہوا۔کوئی پھول اگرچہ دو مہینے یا دو گھڑی بھی نہ رہا مگر یہ ظرفِ وجود (یعنی دو مہینے)کس ساعت پھول سے خالی ہوا ہر وقت کوئی نہ کوئی پھول اس میں موجود رہا تو ضرور طبیعت موجود رہی لیکن ظرف ازل جمیع افراد حوادث سے قطعًا خالی ہے محال ہے کہ کوئی فرد حادث ازلی ہو ورنہ حادث نہ رہے تو ضرور طبیعت سے بھی خالی ہے بے تشخص خارج میں موجود ہو،اور یہ محال ہے گلاب کے یہ دو مہینے دیکھنے نہ تھے جو خود ظرف وجود افراد تھے ان مہینوں سے پہلے دیکھو جس وقت کوئی پھول موجود نہ تھا کیا اس وقت طبیعت گل موجود تھی ہر گز نہیں،عجب کہ فاضل دوانی سے شخص کو ایسا صریح مغالطہ ہو۔
حجت ۵:کہ گویا رابعہ کی تفصیل و تکمیل اور رگ مثال گل کی راسًا قاطع ہے۔اقول: طبیعت خارج میں موجود نہ ہوگی مگر ضمن فرد معین یا منتشر میں اور فرد منتشر خود خارج میں نہیں ہوسکتا۔مگر ضمن فرد معین میں کہ وجود خارجی مساوق ہذیت ہے اور ہذیت منافی انتشار،وہاں وہ کسی ایك یا چند افراد معینہ مجتمعہ یا متعاقبہ فی الوجود سے منتزع ہوگا،اور بہرحال طبیعت اس کے ساتھ موجود رہے گی۔لیکن جہاں نہ فرد ہو نہ افراد نہ مجتمع نہ متعاقتب وہاں نہ فرد منتشر ہوسکتا ہے نہ طبیعت کہ نہ اس کا منزع منہ نہ اس کا مورد۔ازل میں افراد حادثہ کا یہی حال ہے فرد یا افراد معینہ کے ازلی ہونے سے تم خود منکر ہو اور ان کا حادث ہونا آپ ہی اس انکار کا ضامن،اور ازل میں تعاقب نہیں کہ تعاقب سبوقیۃ کو چاہتا ہے اور ازل سے مسبوقیہ سے پاك لاجرم ازل میں افراد متعاقبہ بھی نہ تھے تو فرد منتشر و طبیعت دونوں کے جمیع انجائے وجود منتفی تھے تو ہر گز طبیعت ازلی نہیں ہوسکتی بخلاف گل کہ اگرچہ ہر معین پھول سے دو مہینے استمرار وجود مسلوب ہے مگر فرد منتشر سے مسلوب نہیں کہ وہ ان مہینوں میں اول تا آخر افراد متاقبہ سے منتزع ہے۔
حجت ۶:اقول:ازل میں طبیعت کے وجود خارجی کی علتِ تامہ موجود تھی یا نہیں اگر نہیں تو ازل میں وجود طبیعت بداہۃًمحال اور اگر ہاں تو طبیعت ضرور ازل میں موجود فی الخارج تھی کہ تخلف محال اور وجود خارجی بے تعین ناممکن اور طبیعت معروضہ للتعین ہی فرد معین ہے تو ضرور ازل میں فرد معین موجود تھا حالانکہ سب افراد حادث ہیں،ہذاخلف اور اب غیر متناہی دو حاصروں میں محصور ہوگئے ایك فرد ازلی اور دوسرا مثلًا آج کا فرد تو ضرور شق اول معین اور باوصف حدوث افراد طبیعت کا ازلی ہونا قطعًا محال تو دلائل قاطعہ سے روشن ہوا کہ نہ زمانہ قدیم نہ حرکت نہ فلك نہ موالید نہ افلاك نہ عناصر،والحمدﷲ رب العلمین(اور سب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع