30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہی ترتیب سلسلہ تضایف میں،تو وہ خود ہی حاصل ہے اور تطبیق کے لیے بھی اس کا بالفعل ہونا کیا ضرور۔ہر غیر مرتب لحاظ میں مرتب ہوسکتا ہے کہ غیر متناہی نا مرتب کو ایك بار ایك سے دو تین چار غیر متناہی لیں دوبارہ ایك جز الگ رکھ کر باقی کو یونہی ایك دو تین چار لاکھ پھر ایك کی ایك اور دو کی دو سے آخر تك تطبیق اجمالی لحاظ کریں حکم مذکور ظاہر ہوگا یا تناہی یا جزو و کل کی تساوی دونوں غیر متناہی چلے گئے تو جزو و کل برابر ورنہ دونوں متناہی مباحث یہاں کثیر ہیں اور عاقل کے لیے اسی قدر میں کفایت۔
مقام بست وسوم
قدم نوعی محال ہے فلسفی بہت اشیاء کو ایسا مانتا ہے کہ ان کے اشخاص و افراد سب حادث ہیں مگر طبیعت کلیہ قدیم ہے زمانہ کے دن ا ور فلك کے دورے اور موالید کے انواع ایسے ہی قدیم ہیں مثلًا فلك کے سب دورے حادث ہیں کوئی خاص دورہ ازل میں نہ تھا مگر ہیں ازل سے یعنی کوئی دورہ ایسا نہیں جس سے پہلے غیرمتناہی دورے نہ ہوئے ہوں۔یہ صراحۃً کچا جنون ہے اور اس کے بطلان پر براہین قطعیہ قائم۔
حجت ۱:برہانِ تضایف۔
حجت ۲:برہان تطبیق،ان کا بیان ابھی سن چکے۔
حجت ۳:بدیہی ہے کہ قدیم ہر حادث پر مقدم ہے اس کے لیے ایك ایسا وقت ضروری ہے کہ وہ ہو اور کوئی حادث نہ ہو کہ اگر ہر وقت اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی حادث رہا تو اسے سب حوادث پر تقدم نہ ہوا حالانکہ بداہۃًسب پر ہے لیکن قدم نوعی کی حالت میں یہی بدیہی باطل لازم آتا ہے قدیم کے لیے کوئی وقت ایسا نہ نکلے گا جس میں وہ ہو اور کوئی حادث نہ ہو،اس پر جلال دوانی نے شرح ۳عقائد عضدی میں کہا کہ یہ بداہت وہم ہے قدیم کے ہر حادث پر مقدم ہونے سے اتنا لازم کہ کوئی حادث ایسا نہ ہو جس پر وجود قدیم کو سبقت نہ ہو۔یہ یہاں ضرور حاصل ہے کہ اس حادث سے پہلے ایك حادث تھا اس وقت یہ حادث نہ تھا اور قدیم موجود تھا تو قدیم اس پر مقدم ہو اگرچہ اس پہلے حادث کا مقارن ہوا اور وہ پہلا بھی حادث ہے اس سے پہلے اور حادث تھا اس وقت یہ نہ تھا اور قدیم جب یہی تھا تو قدیم اس پر بھی مقدم ہوا،اسی طرح ہر حادث کا حال ہے تو قدیم ہر حادث پر مقدم بھی ہے۔اور ہر وقت ایك نہ ایك حادث اس کا مقارن ہے۔قدیم کے لیے ایك وقت ایسا ہونا جس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع