30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حصہ ہے اسی طرح غیر متناہی استحالے ہیں۔
ثم اقول:لطف یہ کہ ان کے متشدقین اسی زمانہ ممتد غیر قار کو متصل وحدانی موجود فی الخارج مانتے ہیں اور جب استحالہئ لاتناہی وارد کیا جائے تعاقب وعدم وجود بالفعل کی طرف بھاگتے ہیں حالانکہ اس میں بھی مضر نہیں،اگر کہیے یہی تقریر بعینہ جانب ابدودار د ایك سلسلہ آج سے ابد تك لیں اور دوسرا کل آئندہ سے تو قطعًا پہلا دوسرے سے بڑا ہوگا۔اور ذہن تطبیق اجمالی کرسکے گا تو دونوں برابر ہوجائیں گے یا ابد متناہی۔
اقول:ہاں ضرور دلیل وہاں بھی جاری،پھر کیا حاصل ہوا،وہی تو جو ہمارا مدعا ہے یعنی غیر متناہی اشیاء کا وجود میں آجانا محال اگر چہ برسبیل تعاقب ہوجانب ازل لاتناہی سے غیر متناہی کا وجود میں آچکنا لازم اور وہ محال اور یہ جانب ابد بھی محال کہ کسی وقت یہ صادق آئے کہ غیر متناہی وجود میں آلیے بلکہ ابادلاباد تك جتنے موجود ہوتے جائیں گے خواہ باقی رہیں یا فنا ہوتے جائیں سب متناہی ہوں گے تو محال لازم نہ آیا اور سلسلہ آگے بڑھنے میں محذور نہیں کہ زیارت نہ ہوگی مگر متناہی پر،بالجملہ جانب ازل لاتناہی کمی ہے اور وہ محال اور جانب ابد لاتناہی لا تقفی اور وہ جائز۔
ثانیًا:دو۲ متقابل چیزیں کہ ذاتِ واحدہ میں جہت واحدہ سے جمع نہ ہوسکیں اور ان میں کسی کا تصور بغیر دوسرے کے ناممکن ہو وہ متضایف کہلاتی ہیں جیسے ابوت و بنوت یا علیت و معلولیت یا تقدم وتاخر،ان کا ذہن و خارج میں ہمیشہ برابر رہنا واجب مثلًا ممکن نہیں کہ ایك شے مقدم اور اس سے کوئی موخر نہیں یا موخر ہو اور اس سے کوئی مقدم نہیں تو ان کا سلسلہ کہیں تك لیا جاتا قطعًا ہر تاخر کے مقابل تقدم اور ہر تقدم کے مقابل تاخر ہوگا۔اب آج سے ازل تك ایام زمانہ یا دوراتِ فلك یا انواع عنصریات کا ئنہ و فاسدہ لیں تو یقینًا آج کا دن یا دورہ یا نوع اس سلسلہ میں سب سے موخر ہے اور کسی پر مقدم نہیں اور کل اور پرسوں اترسوں وغیر کا ہر ایك اپنے موخر سے مقدم اور مقدم سے موخر ہے اب اگر یہ سلسلہ غیر متناہی ہے تو اوپر کے تقدم تاخر برابر رہے اور یہ سب میں بعد کا تاخر خالی رہ گیا گنتی میں تقدموں سے تاخر زیادہ رہے اور یہ محال ہے تو واجب کہ ابتداء میں ایك تقدم ایسا نکلے جو خالی تقدم ہو اور اس سے پہلے کچھ نہ ہوتا کہ تقدم و تاخر گنتی میں برابر رہیں تو ثابت ہوا کہ ایام و دورات و انواع کی ازیست محال، ظاہر ہے کہ یہ تقریر بھی اصلًا ان کے بالفعل مجتمع ہونے پر موقوف نہیں باپ بیٹے مرتے جیتے رہیں ممکن نہیں کہ نبوت و ابوت کی گنتی برابر نہ ہو قطعًا ہر نبوت کے مقابل ایوت اور ہر ابوت کے مقابل نبوت ہے اور عدو مساوی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع