30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جز لایتجزی باطل ہے اور میل معد نہیں علت موجبہ ہے تو رد یوں ہے اسے فرمایا منع اول کا ضعف ظاہر ہے۔شاید یہ صرف مسئلہ جز ی طرف اشارہ ہو معد سے اعتراض میں کیا ضعف ہے۔
اقول:بلکہ اس معنی پر جو ہم نے کلام ابن سینا سے مستنبط کیے غالبا ً اس نے اسی چاك کے رفو کو یہ جملہ بڑھایا کہ یہ میل ہی حدود و حرکات تك پہنچاتا ایك سے ہٹاتا اور دوسرے پر لاتا ہے ا ھ یعنی جب تمام حدود متوسطہ مسافت پر وصول کی علت وہی تھا اور ہر گز معد نہ تھا کہ ختم حرکت تك ا س کا وجود واجب تو حد اخیر تك پہچانے کی علت بھی وہی ہوگا اور جیسے ان حدود میں معد نہ تھا موجود تھا یہاں بھی کہ حدوحد میں تفرقہ تحکم ہے یہ ہے وہ جو ہم نے اس کے کلام سے استنباط کیا۔
اقول:مگر رفو نہ ہونا تھا نہ ہوا۔مسافت کو اگر بلحاظ وحدانی ملحوظ کرتے ہو جس طرح وہ خارج میں ہے تو یہاں حدود کہاں مسافت واحد ہے اور حرکت واحد اور میل واحد کہ علت حرکت ہے اور حداخیر تك وصول کا معد اور اگر مسافت میں حدود فرض کرکے منقسم لیتے ہو تو اس کی تقسیم سے حرکت یہی منقسم ہوگی۔اب یہ ایك حرکت نہیں بلکہ ہر حد تك جدا حرکت،او رظاہر ہے کہ جو حرکت ایك حد تھی اس پر ختم ہو کر دوسری شروع ہوگی تو واجب کہ اس کی علت میل بھی یونہی منقسم ہو اس حد پر تو ہر میل ہر حد کے وصول کا معد ہی ہوا نہ کہ علت موجبہ،یونہی حدِ اخیر کا کہ حد وحد میں تفرقہ تحکم ہے۔معہذا بفرض غلط اگر اس ایك اعتراض کا علاج ہو بھی جائے اعتراضات آئندہ قطعًا اس کی تقریر پر بھیو ارد،لاجرم اس کی سعی بھی ویسی ہی مردود و سوفسطائی۔
ثانیًا اقول:یہی فلاسفہ تصریح کرتے ہیں اور خود عقل سلیم حاکم کہ جسم کے لیے اس کے حیز میں میل طبعی نہیں کہ میل طالب حرکت ہے اور حیز میں طبیعت طالب سکون محال ہے کہ وہاں سے حرکت طلب کرے اب جو جسم حرکتِ طبعی سے حیز میں پہنچے آن وصول میں یہ میل نہ ہوگا۔کہ آن وصول آن حصول ہے اور حصول نافی میل تو تمہارا زعم کہ آنِ وصول میں میل موصل باقی ہونا لازم صراحۃً باطل ہے اب کیا محال ہے کہ اسی آن میں میل دیگر قسری یا ارادی پیدا ہو کر حرکت دیگرے دے تو نہ اجتماع نہ انقطاع۔
ثالثًا:میل پر بھی وہی وارد جو مبانیت پر تھا،کیا ضرور کہ اس کا حدوث آنی ہو،ممکن کہ زمانی غیر تدریجی ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع