30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حجت ۶:اقول:بارہاگزرا کہ حرکت فلکی اس کی بساطت کی نافی،اور اس کی نفی اساس فلسفہ کی ہادم،اور اساس فلسفہ کی ہادم اور اساس فلسفہ تمہارے نزدیك مستحکم،لاجرم حرکت فلك باطل۔
حجت ۷:اقول:تصریح کرتے ہو کہ حرکت بے عائق داخلی یا خارجی ناممکن کہ اس کے لیے زمانہ کی تحدید اسی سے ہوتی ہے ایك مسافت جتنے زمانہ میں قطع ہوتی ہے مانو کہ اس کے نصف میں بھی قطع ہوسکتی ہے جب کہ سرعت اس سے دو چند ہواور ربع میں جب کہ چوگنی ہو نہ زمانے کی تقسیم متناہی نہ سرعت کسی حد پر متہی کوئی روکنے والاہوگا تو اس کی مقدار مزاحمت سے قدر سراعت متقدر ہوگی اور بے اس کی تقدیر کے وقوع حرکت نامتصور،لیکن فلك عــــــہ میں نہ میل طبعی مانتے ہو نہ مان خارجی،تو دونوں عائق معدوم تو وقوع حرکت محال۔
مقام بست ویکم
دو حرکت مستقیمہ کے بیچ میں سکون لازم نہیں۔ارسطو اور اس کا گروہ برخلاف افلاطون جب کہتا ہے اور دو شبہے پیش کرتا ہے۔
شبہ ۱:ایك حرکت کے ختم پر متحرك کو منتہائے مسافت سے اتصال ہوگا۔اور دوسری حرکت کے شروع پر اس سے فراق و زوال ہوگا اور اتصال و فراق ایك آن میں جمع نہیں ہوسکتے۔ضرور ان فراق بعد آں اتصال ہے اور دونوں آئیں متصل نہیں ہوسکتیں ورنہ جزُ لایتجزی لازم آئے تو ضرور ان کے بیچ میں ایك زمانہ ہوگا جس میں نہ پہلی حرکت ہے کہ ختم ہوچکی نہ دوسری کہ ابھی شروع نہ ہوئی،لاجرم سکون ہے یہ برہان قد مائے فلاسفہ کی ہے اس پر رد بوجوہ ہے خود ان کے شیخ ابن سینا نے اسے حجت سو فسطائی کہا یہاں اسی قدر کافی کہ اولًا: حرکت واحدہ کی حدود مسافت سے منقوض ظاہر ہے کہ متہرك ہر حد مفروض پر پہنچتا ہے پھر اس سے گزرتا ہے تو ہر حد پر اتصال و زوال کے لیے دو آنیں درکار ہوں اور ان کے بیچ میں زمانہ تو حرکت واحدہ واحدہ نہ رہے بیچ میں ہزاروں سکون فاصل ہوں۔
اقول:یہ اعتراض باول نگاہ ہمارےذہن میں آیا تھا۔پھر شرح مقاصد میں دیکھا کہ اسے
عــــــہ:اور وہ جو ہدیہ سعیدیہ میں کہا کہ حرکت ارادیہ میں جائز ہے کہ متحرك کا ارادہ ایك حد سرعت کی تعیین کرلے اس کا رَد مقام اول سوال ۴ میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع