30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثًا عــــــہ:طلب و منع کا امتناع اجتماع بحسب طبیعت غیر شاعرہ مسلم اور فلك شاعر ہے۔
اقول:یعنی ممکن کہ نفس طالب استدارہ ہو اور طبیعت مانع جیسے انسان کے اوپر جست کرنے میں۔
رابعًا:مستدیرہ سے مانع کا میل مستقیم میں حصہ ممنوع۔
اقول:تین مانع ہم بتاچکے۔
خامسًا کیا ثبوت ہے کہ وہاں کوئی میل مستقیم والا نہیں جو فلك کو روکے۔
سادسًا:مانا کہ مبدء میل بھی ہے اور مانع بھی نہیں پھر یہی وجود میل کیا ضرور،ممکن کہ میل کس شرط پر موقوف ہو جو یہاں مفقود۔
سابعًا اقول:بلکہ یہاں میل محال کہ وہ علت حرکت ہے اور حرکت وہ کہ کمال ثانی رکھے اور یہاں کمال ثانی مفقود۔
دیکھو سوال دوم میں ہماری تقریریں۔
مقامِ بستم
بلکہ اصول فلسفہ پر فلك کی حرکت مستدیرہ بلکہ مطلقًا جنبش یکسر باطل و محال کسی چیز کو باطل کہنا دو طور پر ہوتا ہے۔ایك بطلانِ ثبوت،یہ اوّل تھا اور اس میں فلاسفہ مدعی تھے۔
دوم: ثبوتِ بطلان یہ اب ہے اور اس میں ہم مدعی ہیں،ثبوت ہمارے ذمہ ہے فنقول وباﷲ التوفیق(تو ہم اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتے ہیں۔ت)
حجت ا تا ۳:تعیین جہت تعین قدر تعیین محور میں لزوم ترجیحات بلا مرجح کہ بارہا مبین ہوا۔
اقول:اور اول و دوم مطلقًا حرکت پر وارد اگرچہ وضعیہ نہ ہو۔
حجت ۴:اقول:بعض اوضاع کا استخراج ترجیح بلا مرجح اور کل کا محال اور فلسفی کے نزدیك طلب محال محال تو حرکت محال۔
حجت ۵:اقول:فلك الافلاك میں عرضیہ کی کوئی وجہ نہیں۔اور باقی افلاك میں عرضیہ ہم باطل کرچکے اور طبعیہ وقسریہ سب میں تم باطل جانتے ہو،اور ارادیہ ہم نے باطل کردی،تو جمیع وجوہ حرکت منتفی تو حرکت باطل۔
عــــــہ:یہ اور اس کے بعد کی تین تہافت الفلاسفہ للعلامۃ خعاجہ زادہ میں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع