30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محتاج ہوئے مگر فلك الافلك زبردستی مان لیا بلکہ فلك ثامن بھی علامہ قطب الدین شیرازی نے کیا خوب کہا کہ نو حرکتوں کو نو فلك کیا ضرور ہوسکتا ہے کہ ثوابت ممثل فلك زحل میں ہوں اس کی حرکت خاصہ سے متحرك اور ساتوں افلاك کے ساتھ ایك نفس متعلق کہ انہیں حرکت یومیہ دے،یعنی تو آسمان سات ہی رہیں گےجیسا کہ ان کے خالق کا ارشاد ہے۔
اقول:بلکہ یوں کہتا تھا کہ نفس فلك زحل باقی کے قسر پر قادر ہو جس طرح نفس انسانی قسر حجار پر تو فلك زحل کی حرکت ارادی ہوتی باقی کی قسری،یہ اس لیے کہ ایك نفس دو جسموں سے متعلق نہیں ہوتا۔جیسے دو نفس ایك جسم سے طبعی اپنی طبیعات پر چلے اور اتنا ریاضیوں سے لیا کہ نوفلك ہیں اور ان کی حرکت کے ثبوت میں تین شبہے پیش کیے۔
شبہ ۱:مقام سابق میں فلسفی کی دلیل گزری کہ افلاك میں مبدءمیل مستدیر ہے تو ضرور میل مستدیر ہے تو ضرور متحرك بالا ستدارہ ہے کہ وجود موثر کے وقت وجود اثر واجب ہے،۔اس کے مفصل ردا ابھی اور مقام اول سوال سوم میں گزرے۔
شبہ ۲:جب ہر جز کو سب اوضاع سے نسبت مساوی تو یا جز کسی وضع پر نہ ہوگا یا ایك ہی پر ہوگا یا سب پر معًا ہوگا یا بدل بدل کر اول و ثالث بداہۃًمحال ہیں اور ثانی ترجیح بلا مرجح،لاجرم رابع لازم اور یہی حرکت مستدیرہ ہے مواقف و شرح میں اس پر دو وجہ سے رَد فرمایا۔
اولًا:اس کا مبنی بساطت فلك ہے اور وہ محدد عــــــہ کے سوا اور افلاك کے لیے ثابت نہیں۔
اقول:حاشا اس کے لیے بھی نہیں جس کی تفصیل سن چکے۔
ثانیًا:بساطت اگر سب میں مسلم ہو تو وہ مقتضی حرکت نہیں بلکہ مانع حرکت ہے کہ قطبین کی تعیین جہت کی تعین قدر حرکت کی تعین ضروری ہوگی۔اور وہ ہر ایك بیشمار طور پر ممکن،تو ایك کی تخصیص ترجیح بلا مرجح ہے۔اسی پر طوسی کا وہ جواب تھا جس کی سرکوبی سوال سوم میں گزری۔
ثالثًا:اقول:دلیل چاروں کرئہ عناصر سے منقوض وہ بھی بسیط ہیں تو واجب کہ سب ہمیشہ حرکت مستدیرہ کریں۔
رابعًا:اقول:کیوں نہیں جائز کہ مقتضائے طبیعت فلك سکون ہو تو خصوص وضع نہ تخیص وضع ہے نہ ترجیح بلا مرجح،اس کا بیان مقام ۸ میں گزرا۔
عــــــہ:علامہ خواجہ زادہ نے تہفت الفلاسفہ میں بھی یوں ہی استثناء کیا ۱۲ منہ غفرلہ المولٰی سبحانہ وتعالٰی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع