30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقام ہیجدہم
فلك کا قابلِ حرکت مستدیرہ ہونا ثابت نہیں،فلسفی اس کا یہ ثبوت دیتا ہے کہ فلك میں جتنے اجزاء فرض کرو متحد الطبع ہوں گے کہ وہ بسیط ہے تو کسی جز کے لیے کوئی وضع معین لازم نہیں تمام اوضاع سے اُسے یکساں نسبت،تو ہر جزپر ایك وضع سے دوسری کی طرف انتقال جائز اور یہ یہاں حرکت مستقیمہ سے نہ ہوگا کہ فلك پر اینیہ جائز نہیں،لاجرم مستدیرہ سے ہوگا،تو ثابت ہوا کہ فلك قابل حرکت مستدیرہ ہے،اور ثابت ہوا کہ اس میں مبدء میل مستدیر ہے کہ جواز تبدیل عــــــہ خود اس کی ذات سے ناشی ہے۔ لہذا خارج سے ہو تو قسر ہواور قسر بے میل طبعی ناممکن اور فلك میں میل طبعی نہیں تو قسر محال تو قابل استدارہ نہ رہے گا حرکت بے میل ناممکن،لاجرم اس میں مبدء میل مستدیر ہے۔
(ردّ)یہ سب زخرفہ ہے۔
ثانیًا اقول:امتناع اینیہ بربنائے تحدید ہے اور تحدید ثابت نہیں۔
ثالثًا اقول:ہم ثابت کرچکے کہ اس میں مبدء میل مستقیم ہے۔
رابعًا اقول:ہم باطل کرچکے کہ قسر بے میل طبعی نہیں۔
خامسًا:عنقریب آتا ہے کہ یہی دلیل فلك کی حرکت مستدیرہ محال کررہی ہے نہ کہ قابلیت
عــــــہ:اقول:یہ جملہ دلیل میں اپنی طرف سے زائد کیا ہے اور اس میں علامہ خواجہ زادہ کے اس ایراء کا جواب ہے کہ تبدیل وضع کے لیے فلك ہی کی حرکت کیا ضرور دوسرا جسم جس کے اعتبار سے اوضاع لی جائیں اس کی حرکت بھی تبدیل اوضاع کردے گی۔ علامہ کا دوسرا ایراد یہ ہے کہ ممکن کے بعض اجزاء کو ایك جدا گانہ صورتِ نوعیہ ملے جو اس وضع خاص کا اقتضاء کرے۔
اقول:یہ دو باتوں پر مبنی،ایك یہ کہ یا تو فلك بسیط نہ ہو یا افاضہ صورت استعداد مادہ پر موقوف نہ ہو کہ فاعل مختار ہے،دوسرے یہ کہ فلك پر قسر جائز ہو کہ جب بعض کی صورت نوعیہ کل کو حرکت سے مانع ہوئی تو باقی اجزاء مقسور ہوئے اور ان میں سے ہر بات خود ہی ان کی دلیل کی ہادم ہے تو اس اضافہ لفاضہ کی حاجت نہیں اور اگر ان کے اصول پر کلام مبنی ہو تو نہ خاك پر قسر جائز نہ بسیط کے مادہ پر اختلاف صور ممکن نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع