30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:یہ وہی شبہ اولٰی ہے اور انہیں ردود سے مردود،فرق اتنا کردیا ہے کہ وہاں حیز پر کلام تھا یہاں شکل پر۔
شبہ ۴:وہ بسائط جن سے فلك کا ترکب ہو طبیعت واحدہ پر ہوں گے یا مختلف برتقدیر اول ایك طبیعت کے متعدد فرد یونہی ہوتے ہیں کہ ہیولٰی میں انفصال ہو کر ایك حصہ اس فرد کے لیے ہو ایك اس کے لیے اور مادہ قابلِ انفصال نہیں ہوتا جب تك کوئی صورت نہ پہنے وہ صورت اگر یہی تھی جواب ہے تو قابل خرق ہوئی اور دوسری تھی تو کون وفساد ہوا اور فلك پر دونوں محال، برتقدیر ثانی ہر بسیط اگر اپنے حیز طبعی میں ہو تو محیط کی جہتیں مختلف ہوجائیں گی کہ ان میں ایك سے قریب ایك حیز کا حیز طبعی ہو دوسری سے دوسرے کا تو وہ جہات اس جسم سے پہلے تحدید پاچکیں فلك محدود نہ ہوا(جونپوری)
اقول اولًا:فلك پر خرق جائز مگر " اُشْرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْعِجْلَ"[1](ان کے دلوں میں بچھڑا رَچ رہا تھا۔ت)
ثانیًا:کون وفساد کا امتناعِ حرکت مستقیمہ پر مبنی اور وہ باطل۔
ثالثًا:فلك کا محدد ہونا مردود۔
رابعًا:شق ثانی میں یہ شق چھوڑ دی کہ بعض غیر طبعی میں ہوں اور اس کے لیے پھر اُسی شُبہ اولی کی طرف رجوع ضرور ہوگی جس طرح وہاں یہ شق متروك تھی کہ سب اپنے اپنے حیز طبعی میں ہوں جس کے لیے اسی شبہ چہارم کی طرف رجوع ہوئی تو دونوں مل کر شبہ واحدہ ہیں کلام یہاں طویل ہے مگر خیر الکلام ماقل ودَلَّ(بہترین کلام وہ ہے جو مختصرًا اور جامع ہوت)
اقول:یہ تو ان کے شبہات تھے،اب ہم اصولِ فلسفہ پر حجت قطعیہ پیش کریں کہ بساطت فلك محال،فلك اگر بسیط ہو تو اس کا سکون محال ہو کہ اجزاء متحد الطبع ہیں۔ہر چیز کو سب اوضاع سے نسبت یکساں تو ایك پرقرار ترجیح بلا مرجح،نیز حرکت محال ہو کہ حرکت اینیہ ہوگی۔یا وضعیہ فلك پر اینیہ محال اور وضعیہ کے لیے تعیین قطبین درکار،اور سب اجزاء صالح قطبیت،تو سب کو چھوڑ کر دو کی تخصیص ترجیح بلا مرجح،اور جب بربنائے بساطت سکون و حرکت دونوں محال اور جسم کا اُن سے خلو محال تو بساطت محال۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع