30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عنی نعمۃ انعتمہا علی وصل وسلم علٰی نعمتك الکبرٰی ورحمتك المعداۃ وفضلك العظیم وعلٰی الہ وصحبہ وامتہ وحزبہ اجمعین اٰمین والحمدﷲ رب العلمین" |
اے واحد اے بزرگی والی ! جو نعمت تو نے مجھے عطا فرمائی ہی وہ مجھ سے زائل نہ فرما۔اور درود و سلام نازل فرما اپنی سب سے بڑی نعمت،اپنی بڑھی ہوئی رحمت اور اپنے فضل عظیم پر اور آپ کی آل آپ کے اصحاب اور آپ کی تمام امت پر۔آمین ! اور سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا(ت) |
مقام ہفدہم
بسیط نہیں،فلسفی یہاں چار شبہے رکھتا ہے جن کا حاصل دوہی ہے۔
شبہ ۱:اگر اجزائے مختلف الطبائع سے مرکب ہو تو ہر جز اپنے حیز کا طالب ہوگا تو اجزا پر حرکت مستقیمہ جائز ہوگی جو فلك میں محال ہے،یہ ہے وہ جسے بہت طویل کہا تھا۔ہم نے ایك سطر میں تلخیص کی اور اس کے کافی و وافی رد مقام ۶ و ۱۲ میں سن چکے۔
شبہ ۲:اجزاء بعض یا کل اپنے حیز سے جدا ہوں گے کہ دو طبیعتوں کا ایك حیز نہیں ہوسکتا تو جو غیر حیز میں ہے قسیرًا ہے اور قسر کو دوام نہیں۔مقاومت طبع سے سست ہوتا جائے گا۔اور بالاخر طبیعت غالب آئے گی اور گرہ کھل جائے گی تو فلك بکھر جائے گا اور حرکت باطل ہوجائے گی تو زمانہ منقطع ہوجائے گا کہ اُسی کی مقدار تھا حالانکہ زمانہ سرمدی ہے۔
اولًا:بارہا سن چکے کہ قسر کا وجوب انقطاع ممنوع
ثانیًا:عنقریب آتا ہے کہ زمانہ مقدار حرکت فلکیہ بلکہ اصلًا کسی حرکت کی مقدار نہیں۔
ثالثًا:یہ بھی کہ زمانہ سرے سے موجود ہی نہیں انقطاع و دوام کیسا۔
رابعًا:یہ بھی کہ زمانہ سرے سے موجود ہی نہیں انقطاع جائز۔
شبہ ۳:جن اجزاء سے فلك مرکب ہو اُن کی انتہا بسائط پر ضرور،ہر بسیط اگر اپنی شکل طبعی پر ہو تو کرہ ہوگا کہ بسیط کی یہی شکل طبعی ہے اور متعدد کرے مل کر ایك سطح کروی نہیں بن سکتی(کہ ہر دو کا تماس نہ ہوگا مگر ایك نقطے پر باقی بیچ میں فرجہ رہے گا)ورنہ جو شکل غیر طبعی پر ہوں ان کا طبعی کی طرف عود جائز ہوگا تو حرکت مستقیمہ جائز ہوئی۔(جونپوری)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع