30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوسکتا ہے۔اقتضا میں داکل شرط مقتضی کے طبع ہونے کا مانع نہیں کہ شرط نہ مقتضی ہے،نہ جزء مقتضی جیسے خود میل مستقیم کہ بالا تفاق بخروج عن الخیر ہے۔اور بالا اتفاق طبعی ہے،اور اگر تم یہ اصطلاح گھڑو کہ طبعی وہی ہے کہ جو نفس طبیعت من حیث ھی ھی کا مقتضی ہو تو یہ مسئلہ جس لیے تم نے اچھالا ہے کہ فلك پر میل مستقیم اور عناصر پر مستدیر منع کرو جیسا کہ جو نپوری نے اس کے متصل فصل میں کیا وہ وہیں باطل ہوجائے گا۔فلك و عناصر میں ثابت ہوا تو اتنا کہ میل کا اقتضا ہے یہ کہ خالص نفس طباع سے ہے جس میں کسی امر زائد کی اصلًا مداخلت نہیں۔اس پر کیا دلیل غایت عدم ثبوت ہے نہ کہ ثبوت عدم۔
(۲)ہم وہ غایتیں لیتے ہیں کہ خود متنافی نہیں اور ان میں ایك منوط بشرط ہونا بدیہی اور تمہیں بھی تسلیم،اور دوسری بلاشرط اور دونوں میل اس حد تك موصل،کیا محال ہے کہ طبیعت تبدل وضع چاہے اور حیز کو تو چاہا ہی ہے اب اگر حیز سے باہر ہو حیز تك حرکت مستقیمہ کرے گ ا دونوں غایتیں اسی حرکت سے حاصل ہوں گی حیز تك وصول یہی اور اوضاع کا تبدل یہی جب حیز میں پہنچا میل مستقیم ختم ہوجائے گا کہ اس کی غایت حاصل ہوگئی اب میل مستدیر شروع ہوگا کہ یہاں دوسری غایت یعنی تبدل اوضاع اسی سے ممکن تو حیز سے باہر مستقیمہ کرے گا اور حیز کے اندر مستدیرہ اور دونوں کا مبدء طبیعت واحدہ۔
خامسًا:اوپر کتنے وجوہ سے روشن ہوچکا کہ خرق حرکت مستقیمہ پر موقوف نہیں غرض دلیل ذلیل کا ایك حرف بھی صحیح نہیں۔
سادسًا:ارصاد نے اگر بتایا تو اتنا کہ فلك میں میل مستدیر ہے نہ یہ کہ ہمیشہ رہے گا نہ اس کے دوام پر دلیل تمام،تو کیا محال ہے کہ میل مستدیر منقطع ہو کر میل مستقیم حادث ہو،اب تو اجتماع متنافیین نہ ہوگا۔(شرح مقاصد)ناتمامی دلیل دوام کا بیان عنقریبآتا ہے ان شاء اﷲ تعالٰی۔
سابعًا اقول:سب سے لطیف تریہ کہ دلیل جمیع مقدمات صحیح مان لیں جب بھی اُسے مدعا سے اصلًا مس نہیں نہ آئندہ بلکہ اس وقت خواہ کسی وقت خرق افلاك کی نافی نہیں،متفلسفہ کی نِری عیاری ہے،وجہ سنیے۔دلیل اگر بتائے گی تو صرف اتنا کہ دو میل طبعی جمع نہیں ہوسکتے اور براہِ چالاکی دعوٰی عام کیا کہ طباعی نہیں ہوسکتےۤ جس میں طبعی وارادی دونوں آجائیں کہ فلك کی بگڑی بنائیں،مگر یہ ظلم شدید یاجہل بعید ہے ایك طبعی ایك ارادی ہو تو اصلًا تنافی نہ ان کا اجتماع دشوار،خود جونپوری نے میل مستقیم طبعی کے ساتھ میل مستدیر ارادی جائز رکھا ہے جیسے حیوان کہ قصدًا گھومے،فلك میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع