30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس عــــــہ پر عبدالحکیم نے کہا کہ حرکتِ مستدیرہ اصطلاح میں ہے وہ ہے کہ حیز سے باہر نہ کرے یہ دحرجہ میں کہاں(حاشیہ شرح مواقف)
اقول:(۱)یہ عجیب جواب ہے جب مستدیرہ کے معنی یہ لے لئے تو اس مستقیمہ سے امتناع اجتماع بدیہی ہوگیا۔فلسفی کہ خود مسئلے کو نظری مان رہا اور جسم مرکب میں اجتماع میلین کے امتناع میں خود فلسفہ مضطرب ہورہا ہے اس کا کیا محل رہا۔
(۲)کلام اجتماع دو مبدء میل میں ہے نہ بالفعل اجتماع میلین میں حرکت مستدیرہ محص وضیعہ ہونا کیا اس کے منافی کہ اس میں مبدءمیل مستقیم بھی ہو حیز میں حرکت مستدیرہ کرے اور بغرض خروج مستدعی عود ہو یہی مبدءمیل مستقیم ہے تو سند غیر مساوی پر کلام کو جواب سمجھنا قانون مناظرہ سے خروج ہے۔
فلسفی مقدمہ ممنوعہ کا ثبوت دیتا ہے کہ میل مستقیم خطِ مستقیم پر لے جانا چاہتا ہے اور مستدیر اس سےپھیرتا ہے تو دونوں متنافی ہیں،اور محال ہے کہ بسیط میں دو متنافیوں کا اقتضاء ہو اس پر صریح رد ہے کہ دو شرط سے دو متنافی کا اقتضاء کیا محال ہے مثلًا حیز میں ہو تو وضعیہ چاہے اور باہر ہو تو اینیہ جونپوری نے کہا دو متنافی اگر باختلاف احوال ایك غایت طبیعہ تك موصول ہوں تو دونوں بالعرض مقتضائے طبع ہوسکتے ہیں جیسے حیز سے باہر حرکت اور اندر سکون کہ دونوں سے مطلوب حیز طبعی ہے میل مستقیم و مستدیر ایسے نہیں اس کی غایت حیز ہے اور اس کی نہیں کہ یہ اس تك موصل نہیں معہذا اگر اس کی غایت یہی استدارہ نہ رہے۔اور جب یہ متنافیون کی دو غایتیں ہوں تو اگر وہ غایتیں یہی متنافی ہوں تو طبیعت واحدہ مقتضی متنافیین نہیں ہوسکتی اور نہ ہوں تو طبیعت دونوں کو معًا چاہے گی تو ان تك موصل یعنی دونوں میل متنافی جمع ہوجائیں گے۔
اقول:(۱)جب دونوں اقتضا منوط بشروط اور شرطین متنافی تو ان کا اجتماع کیونکر
عــــــہ:بعض نے حواشی میبذی میں اور اونچی آن لی کہ اس کا مبنی الواحد لا یصدرعنہ الا الواحد [1]۔
(واحد سے نہیں صادر ہوتا مگر واحد۔ت)ہے طبیعت واحدہ دو چیزوں کا اقتضا کیونکر کرے اقول:حیز،شکل،مقدار طبعی کیفیات جیسے زمین میں برودت،یبوست،بس ان میں سے ایك اختیار کرلو کہ وہ طبعی ہے باقی سب غیر طبعی،فلسفی ایسے بھی ہوتے ہیں،۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع