30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ مقتضی بالفتح میں لحاظ خارج ہوگا،ہاں یہ اعتراض کریں کہ اجزا کا لحاظ خود خارج کا لحاظ ہے جیسا کہ ابھی آتا ہے تو ضرور صحیح اور اگر وہ نسبت جو باہم اس کے اجزاء میں ہے اسے طوسی نے اختیار کیا اور نہ جانا کہ یہ کب لحاظ خارج سے خارج ہے فلك جسم متصل وحدانی ہے نہ اس میں اجزاء نہ اُن کے اوضاع تو طبیعت اگر اپنی حالت پر چھوڑی جائے ان میں سے کچھ نہ ہوگا جس کا اقتضا کرے۔
اقول:معہذا جب اجزا محد الطبع ہر ایك کے لیے ایك وضع کی تخصیص کا اقتضا کیا معنی وضع کے تیسرے معنی اور ہیں ایسا ہونا کہ اشارہ حسیہ ہوسکے سیالکوٹی اور ان کے اتباع سے حمد اﷲ نے کہا یہ تو صورت جسیمہ کا مقتضی ہے طبائع مختلفہ سے تعلق نہیں،تعلق نہیں رکھتا تو مراد نہیں ہوسکتا۔
اقول:جسمیہ کا مقتضی مطلق اشارہ حسیہ کا صالح ہونا ہے نہ خاص اشارہ محدودکا جو بے کم و بیش یہاں تك منتہی ہے یہ وہی حیز طبعی کی تحدید ہے کہ طبیعت سے ہوئی لاجرم فلك اطلس کا حیز طبعی یہی وضع بمعنی اخیر ہے اور اس میں فوق وتحت ملحوظ نہیں یونہی تمام اجسام کے لیے عندالتحقیق ہر ایك کے لیے جو وضع خاص محدود ہے وہی اس کا حیز طبعی ہے نہ جس طرح ابن سینا نے کہا کہ یہ خاص اطلس میں ہے باقی میں حیز طبعی ان کا مکان مکان تو تمہارے نزدیك سطح حاوی ہے تو لحاظ خارج سے چارہ نہیں پھر طبعی کب ہوا۔(حمد اﷲ)
اقول:یہ وارد نہیں طبعی کے لیے جانب مقتضی بالکسر ہیں لحاظ خارج نہیں نہ کہ جانب مقتضی بالفتح میں ورنہ حیز خود ایك امر خارج ہے کیونکر مقتضی ہوگا۔رہا یہ کہ اس پر صحیح رَد کیا ہے۔
اقول:ظاہر ہے کہ جسم اگر اپنی طبیعت پرچھوڑا جائے ہر گز اس کا قتضایہ نہ ہوگا کہ کوئی دوسرا جسم اسے حاوی ہو تو مکان کو طبعی کہنا جہل ہے بلکہ وہی وضع مذکور ہر ایك کے لیے اس کا حیز طبعی ہے۔اگر کہیے اشارہ نہ ہوگا مگر جہت کو تو وضع بایں معنی خود محتاج جہات ہے۔
اقول:ہاں مگر محتاج تحدید جہات نہیں کہ تحت یہیں تك ہے فوق آگے نہیں اور محذور تقدم تحدید میں ہے نہ تقدم نفس جہت میں، ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق(یونہی تحقیق چاہیےاور اﷲ تعالٰی ہی توفیق کامالك ہے۔
تاسعًا اقول:یہاں سے ایك اور ردو اضح ہوا حرکت کی جہت چاہیے کہ مبدء و منتہی کی طرف اشارہ جدا ہو تحدید کی حاجت نہیں اور نفس جہد کی حاجت خود محدد کو ہے کہ بے اس کے اس کا حیز طبعی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع