30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقدم رہی۔
ثامنًا اقول:ہم ثابت کریں گے کہ بساطت فلك باطل ہے اور جب اجزاء مختلف الطبائع ہوئے تو خود کہتے ہو کہ وہ طبعًا اپنے اپنی حیز کے طالب اور اجتماع پر مقسور ہوں گے اور قسر کو دوام نہیں رفتہ رفتہ ضعیف ہو کر قوی اجزاء غالب آکر ترکیب کی گرہ کھل جائے گی اور اجزاء اپنے اپنے حیز کو جائیں گے تو یہ حرکت نہ ہوگی مگر لایزال میں اور تحدید ازل میں ہوچکی۔اگر کہے حرکت کبھی ہو جب طبعی ہے اس کا اقتضا تو طبیعت میں مدد وجود سے ہوگا جس پر وجود کو ایك ہی مرتبہ تقدم ذاتی ہوگا اور اسی قدر تحدید پر تھا تو اقتضائے حرکت اینیہ و تحدید مرتبہ واحدہ میں ہوگئے حالانکہ تحدید اس پر مقدم ہے کہ اسے اس پر توقف ہے۔
اقول:اگر نفس اقتضائے حرکت وجودجہت پر موقوف بھی ہو تو حرکت متقضائے طبع نہیں مگر بالعرض جب حیز میں نہ ہو تو اقتضائے حرکت فقدان حیز پر موقوف اور فقدان حیز قسر پر اور قسر قتضائے طبعی حیز پر کہ جہاں طبع نہیں قسر نہیں اور اقتضائے طبعی وجود پر تو اقتضائے حرکت وجود سے چار مرتبہ موخر ہے اور تحدید ایك ہی مرتبہ تو تحدید اقتضائے حرکت پر تین مرتبہ مقدم رہی۔اگر کہیے نفس حیز میں فوق وتحت ملحوظ خفیف کا وہ ثقیل کا یہ۔
اقول:ہر جسم کا حیز ایك ہویت رکھتا ہے جس کے سبب اس کی طرف اشارہ حسیہ اوروں سے جدا ہے وہ ہویت مقتضائے طبع ہے فوق و تحت ملحوظ نہیں اور اگر نہیں مانتے تو فلك الافلاك کا حیز طبعی بتاؤ۔اگر کہیے وہ وضع جس سے وہ باقی اجسام سے ممتاز ہے اور وہ اس کا سب سے اوپر ہونا ہے۔(ہدیہ سعیدیہ)
اقول:اب اقتضائے فوقیت مقتضے سے پہلے تحدید جہات چاہے گا محدد محدد نہ رہا۔اگر کہئے وہ ترتیب جس سے وہ باقی اجسام سے ممتاز ہے۔(جونپوری فصل شکل)
اقول:یہ بھی اول کے قریب یا دوسرے لفظوں میں وہی ہے ترتیب ممتاز یہی ہے کہ سب سے اوپر ہے،معہذا یہ دونوں لوسی کے طور پر باطل ہیں کہ ہر ایك میں لحاظ امور کارجہ کا ہے تو حیز طبعی نہ ہوا۔اگر کہیے اس کی وضع(جونپوری فصل حیز)یہ لفظ مجمل ہے وضع سے اگر وہ نسبت مراد جو اس کے اجزا کو دیگر اجسام سے ہے تو نسبب لحاظ خارج حیز طبعی نہیں،ولہذا طوسی نے اس معنی سے انکار کیا۔معہذا یہ وضع تو بر وقت بدل رہی ہے اگر طبعی ہوتی نہ بدلتی کہ فلك پر قاسر نہیں مانتے۔
اقول:یہی رَد اُن کے طور پر صحیح ہے نہ وہ کہ طوسی نے کہا،ہم عنقریب بیان کریں گے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع