30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کے اجزاء کی حرکت کو وہی جہات درکار ہوں جن کی حد بندی خود اس کی شکل نے کی۔توضیح اس کی یہ کہ خرق کے لیے خود فلك کا حرکت اینیہ کرنا مطلوب نہیں بلکہ اس کے بعض اجزاء کا اور تحدید صرف اس کے تشکل پر موقوف او رتشکل مساوق تعیین اور تعین مساوق وجود تو وجود تك تحدید پر فقط ایك مرتبہ تقدم ہے وہ بھی ذاتی نہ زمانی اور اجزا کی حرکت اینیہ ممکن کہ ارادی ہو فلك کا نفس منطبع انہیں یہ حرکت دے جیسے تمہارے نزدیك کل کو حرکت مستدیرہ دے رہا ہے ا ور اس ارادہ کا لازم وجود ہونا ضرور نہیں ممکن کہ لایزال میں ہو جس طرح کل متعاقب حادث دورے نئے نئے تخیلات نفس منطبعہ سے پیدا ہورہے ہیں۔ ممکن کہ وہ تخیل و شوق جو اجزائے مذکورہ کو حرکت اینیہ دینے پر باعث ہوا کسی دورہ خاصہ کل سے منوط و مشروط ہو جیسے ہر دورہ دورہ آئندہ کے لیے معد ہوتا ہے تو یہ تحریك نہ ہوگی۔مگر حادث،اور اسے جہات وہی درکار ہوں گی جن کی حد بندی خود شکل فلك تمہارے زعم سے ازل میں کرچکی۔
سابعًا اقول:بلکہ ممکن کہ یہ حرکت ارادیہ بھی وجود فلك کے ساتھ ہی ہوا اور اب بھی تحدید کو اس پر تقدم ہی رہے گا کہ یہ حرکت ارادے پر موقوف اور ارادہ شوق پر اور شوق تصور پر او ر تصور وجود پر تو وجود کو حرکت پر چار مرتبے تقدم ہوا اور تحدید پر ایك ہی مرتبہ تھا تو تحدید حرکت پر تین مرتبہ
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) المتبدل فی الوضعیۃ دون وضع الکل و ثانیًا وھو الحل ان اراد الامکان الذاتی بمعنی ان الجسم فی حدذاتہ لایاباھا فلا یجب لہ وجود الجہات بل تصور ھا وان ارادالوقوعی لایجب کو نہ مع الذات حتی یلزم تقدم الجہات علٰی نفس الاجزاء ۱۲ منہ غفرلہ۔ |
کہ وہی متبدل ہوتی ہے حرکت وضعیہ میں نہ کہ وضع کل اور میں ثانیًا کہتا ہوں اور وہی حل ہے کہ امکان سے اگر اس کی مراد امکان ذاتی ہے بایں معنی کہ جسم بااعتبار اپنی ذات کے اس سے انکار ی نہیں ہے تو اس کے لیے وجودِ جہت واجب نہیں بلکہ تصور جہت واجب ہے اور اگر اس کی مراد امکان سے امکان واقعی ہے تو اس کا ذات کے ساتھ ہونا واجب نہیں یہا ں تك کہ جہات کا نفس اجزاء پر مقدم ہونا لازم آئے۔(۱۲ منہ)(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع