30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرکتِ مستدیرہ کرے تو خرق ہوا،اور تحدید جہتین میں کچھ فرق نہ آیا کہ یہ حرکت تحت و فوق میں نہیں(شرح تجرید قوشجی) اس کا جواب میر ہاشم وغیرہ نے حواشی میبذی میں دیا کہ دوانی نے تحقیق کیا ہے کہ جہات ستّہ سے باقی چھ جہتیں بھی انہیں فوق و تحت کی طرف راجع ہیں۔
اقول:ہاں جو حرکات خطوط مستقیمہ یا منحنیہ،غیر مستدیرہ یا مستدیرہ غیر محیط بمرکز عالم یا محیطہ خارجۃ المرکز پر ہوں ضرور تحت و فوق کی طرف راجع ہیں لیکن جو خطوط مستدیرہ موافقۃ المرکز پر ہوں محال ہے کہ ا ن کی طرف راجع ہوں ورنہ مرکز سے دائرہ تك بعد مساوی نہ رہے گا۔کمالا یخفٰی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں)ت)بلکہ سیالکوٹی نے یوں تقریر کی کہ اینیہ نہ ہوگی مگر ایك جہت حقیقیۃ سے دوسری کو کہ یادونوں مکان طبعی ہوں گے یا دونوں قسری،یا ایك طبعی ایك قسری،بہرحال حرکت حقیقیہ سے حقیقیہ کو ہے۔(حاشیہ شرح مواقف)
اقول:(۱)یہ اسی بداہت کے خلاف ہے گرد مرکز عالم کسی دائرہ موافق المرکز پر حرکت کیونکر تحت سے فوق یا فوق سے تحت کو ہو سکتی ہے حالانکہ ہر وقت مرکز سے بعد یکساں ہے۔
(۲)اگر اینیہ جہات حقیقیہ ہی میں منحصر تو زمین اگر اپنی کرویت حقیقیہ پر رہتی کوئی سیّاح تمام روئے زمین کے ذرے ذرے پر سیاحت کر آنے والا کبھی خواہ کیسے ہی منحنی خطوط پر مختلف جہات میں چلتا متحرك نہ ٹھہرتا کہ آن کو بھی جہات حقیقیہ سے اس کا فاصلہ نہ بدلا۔
(۳)جزء نار اگر کرہ نار پر حرکت اینیہ مستدیرہ کرے طبعی سے طبعی کی طرف منتقل ہے اور حقیقیہ سے حقیقیہ کی طرف نہیں۔
(۳)جزء نار اگر محدب ہوا میں یونہی متحرك ہو قسری سے قسری کی طرف منتقل ہے اور حقیقیہ میں تبدیل نہیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
نہیں کرسکتا کہ ہر حرکت مستقیمہ(یعنی اینیہ)جہت حقیقیہ سے جہت حقیقیہ ہی کی طرف ہو پھر فرمایا فتامل،اس کے بعد وہ تقریر فرمائی کہ اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو۔
اقول:جب تك وہ ثابت نہ ہولے کہ اینیہ نہ ہوگی مگر تحت و فوق میں اس تقریر کا محل نہ تھا اور اس کے اثبات کی طرف کوئی راہ نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع