30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے یا نہیں۔اگر نہیں تو وہاں وہی کلام ہوگا اور منقطع نہ ہوگا مگر تسلیم خلا ملایا اس اقرار پر کہ ہاں دوجدا جدا سطحیں ایسی وصل ہو سکتی ہیں کہ بیچ میں اصلًا نقطے بھر بھی فصل نہ ہو۔جب دو جسم منفصل میں ایسا اتصال ممکن تو جسم متصل میں کیوں ایسا انفصال ناممکن،ضرور جائز کہ دو حصے ہوجائیں اور انکے بیچ میں اصلًا فصل نہ ہو اور جب فصل نہ ہوا مسافت نہ ہوئی حرکت کہاں سے آئے گی،یہ جو ذہن پر مستولی ہو رہا ہے کہ پھٹے گا تو ہٹے گا،یہ استیلائے وہم ہے کہ ہم نے افتراق یوں ہی ہوتے دیکھا اور یہی ہمارے خیا ل میں ہے اور عقل قطعًا جائز رکھتی ہے کہ دو ٹکڑے اس حالت پر پیدا ہوں جو حالت دو املس سطحوں کے وصل سے ہوتی ہے کہ ہیں دو اورفصل نام کو نہیں،
انتہاءً یہ صورت واقع ہے ابتدءً کون مانع ہے۔
رابعًا اقول:جہت کو منتہائے اشارہ حسیہ کہتے ہو اور مقعر اطلس یقینًا منتہی نہیں اشارہ قطعًا محدب تك جائے گا تو ثخن بلاشبہ تحدید میں لغو ہے،اب اجزائے ثخن میں حرکت اینیہ سے کون مانع تو ظاہر ہوا کہ میبذی نے جو تقرر کی کہ خرق حرکت عــــــہ۱ مستقیمہ سے ہو تو فلك اس کا قابل نہیں اور مستدیرہ سے ہو کہ بعض جزو ایك طرف حرکت مستدیرہ کریں اور بعض دوسری طرف،یا ساکن رہیں،یہ طبعًا نہیں ہوسکتی کہ طبیعت اجزاء متحد نہ قسرًا کہ فلك پر قاسر نہیں،نہ ارادۃً کہ فلك بسیط ہے،آلات مختلف نہیں رکھتا جن کے ذریعے سے فلکی بالارادہ مختلف افعال کرے۔
اقول:محض ندامن بعید و دور ازکار ہے،قطع نظر اس سے کہ اس کا ایك مقدمہ باطل جس کا بطلان بارہاظاہر ہوچکا ہے۔ہمارے کلام سے اصلًا مس نہیں منع مستقیمہ پر بنائے تحدید ہے اور تحدید میں ثخن لغو۔
خامسًا: فلك محدود ہے تو فوق و تحت کا عــــــہ۲ نہ ہر جہت کا،ممکن کہ جز ء فلك گرد مرکز عالم
عــــــہ۱:(۱)منع مستقیمہ ممنوع(۲)اتحاد طبع ممنوع(۳)منع قاسر ممنوع(۴)بساطت فلك ممنوع(۵)آلات مختلفہ نہ ہونا ممنوع جس طرح ہمارے جوارح ہمارے نفس کے آلات ہیں یونہی فلك کے پرزے خارج حامل جو زہر مائل مدیر تدویر متمم حاوی محدی کواکب نفس فلکی کے ہوناکیا محال۔(۶)اقول:ایك جزو متحرك اور دوسرا ساکن تو اختلاف افعال نہ ہوا سکون فعل نہیں۔۱۲۔
عــــــہ۲:علامہ سید شریف نے بھی حاشیہ شرح حکمۃ العین میں اسے نقل کیا اور اتنا بڑھایا کہ یہ دعوی (باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع