30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف اس کے موازی ہر مدار پر کہ سارا فلك چھلے چھلے ہوجائے اور جس طرح یہ چھلے اب موہوم ہیں،اور تو ہم میں حرکت مستدیرہ کررہے ہیں کہ صرف وضع بدلتی ہے این نہیں بدلتا یونہی اس وقت یہ چھلے اور ان کے دورے واقع ہوجائیں تو ان میں کسی کی حرکت جہت سے جہت کو نہ ہوگی۔جس طرح اب نہیں اور بیچارہ فلك پاش پاش پرزے پرزے ہوگیا۔اب ان ٹکڑوں میں نہ کوئی محیط ہے نہ کوئی محاط لغو کسے کرو گے ہاں یہاں حر زبانی کا شبہ وارد ہوگا کہ خرق و التیام بے اقتران و افتراق اجزاء نہ ہوگا اور وہ مستدعی حرکت اینیہ۔
اقول:وباﷲ التوفیق ایك ہموار سطح کا دوسری ہموار سطح سے تماس کلی کہ اصلًا باہم فصل نہ رہے۔ممکن ہے یا نہیں مثلًا دو مساوی جسم ہر ایك نصف کرے کی صحیح شکل پر ہو۔اگر انہیں ملا کر پورے کرلے گی شکل پر رکھیں تو بالکل مل جائیں گے یا ایك سطح دوسری سے وصل ہو ہی نہیں سکتی۔فصل ضرور ہے برتقدیر ثانی یہ فصل ایك نقطے کی قدر ہے یا خط کی علی الاول نقطہ جو ھری ثابت خواہ وہ نقطہ قائمہ بذاتہ ہو یا کسی شیئ ثالث سے جوان دو میں فصل ہے علی الثانی اس فصل میں کوئی جسم نہیں تو خلا لازم اور ہے تو اس کی سطحوں سے ان پہلی دو سطحوں کا تماس کلی
مثلًا مشرق سے مغرب کو یا
بالعکس اور ان جہات کی تحدید محدود سے نہیں تحدید تحت و فوق کی ہے۔اور جز کی حرکت
قطعًا ان کی طرف نہیں۔
ثالثًا: جز کی حرکت محض اختراع وہم ماننا فلك کی حرکتِ مستدیرہ کا خاتمہ
کردے گا کہ وہ نہیں مگر استخراج اوضاع کو،اور اصالۃً وضع نہ بدلتی مگر اجزا کی،اور
وہ موہوم ہیں۔موہوم کے لیے خارج میں کوئی وضع بھی نہیں کہ وہ خود ہی خارج میں نہیں
پھر یہ حرکت کس لیے۔
رابعًا: سکونِ قلب پر جو استحالہ مانتے ہیں کہ ایك وضع کا لزوم ہوگا اور وہ ترجیح بلا مرجح ہے اجزائے فلك کی نسبت سب اوضاع سے برابر ہے یہ بھی باطل ہوگیا،نہ اجزا ہیں،نہ اوضاع،نہ لزوم،نہ تبدل رہا وجود منشا کا عذر۔
اقول:مشترك ہے غرض۔
ولن یصلح العطار ماافسدہ الدھر(۱۲ منہ غفرلہ)
(عطا ر ہر گز اس کی اصلاح نہیں کرسکتا جس کو زمانہ نے بگاڑ دیا۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع