30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(حجّت ثانیہ)ایك نہایت لطیف و نفیس بات کہ فلك الافلاك اور فلك کی حرکت قسریہ ہونا قبول وادی فلك کا قابل استدارہ ہونا یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ بسیط ہے ہر وضع سے اس کے اجزاء کو نسبت یکساں ہے تو انتقال جائز۔
اقول:نہیں نہیں بلکہ واجب کہ سکون میں ایك وضع کالزوم ہو اور وہ ترجیح بلا مرجح ہو۔اور وہ محال،اور جو فعل دفع محال کی ضرورت سے ہو قسری ہے کہ اس کا مبدء خارج سے ہے۔جیسے پنچورے سے پانی کا نہ گِرنا یا پچکاری میں اوپر چڑھنا وغیرہ ذلك الافعال کہ بے اقتضائے طبع بضرورت امتناع خلا ہیں سب قسری ہیں،لاجرم تمام افلاك کی حرکت قسری ہے۔
مقام شانزدہم
فلك عــــــہ پر خرق و التیام جائز ہے۔فلسفی اسے محال کہتا ہے اور اس کے فضلہ خوارنیچری وغیرہم اسی بناء پر معراج پاك سے منکر ہیں۔طرفہ یہ کہ ایمان و کلمہ گوئی و تصدیق قرآن عظیم و ایمان _________قیامت کے مدعی ہیں۔قرآن و قیامت پر ایمان استحالہ خرق والتیام کے ساتھ کیونکر جمع ہوا جس میں بکثرت نصوص قاطعہ ہیں کہ روز قیامت آسمان پارہ پارہ ہوجائیں گے،
|
" وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ یَجْحَدُوۡنَ ﴿۳۳﴾"[1] |
لیکن ظالم اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔(ت) |
فلسفی کے پاس کوئی دلیل نہیں سوا اس مشہور شبہ باطلہ کے کہ خرق و التیام نہ ہوگا مگر حرکت سے اور حرکت اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو تو محدد یا اس کے اجزاء اگر حرکت اینیہ قبول کریں تو محدد کے لیے جہت درکار ہوئی نہ کہ جہت کی حد بندی محدد سے ہوئی،رَدّ بوجوہ کثیرہ ہے۔
اوّلًا اقول:ہم روشن بیانوں سے باطل کرچکے کہ فلك محدد جہات ہے تو وہ دربا
عــــــہ:اس بحث میں جن کے لیے یہ مقامات وضع ہوئے اگرچہ اس مسئلہ کی حاجت نہیں مگر ضروری دینی ایمانی مسئلہ ہے اور انہیں مقامات نے اسے بعونہ تعالٰی صاف کردیا لہذا ان کے بعد اسے ایك مستقل مقام مقرر کرنا مناسب ہوا کہ نہایت اہمیت رکھتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع