30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثًا: قاسرواحد کا سب پر اثر یکساں ہونا کیا ضرور اثر جس طرح قوت قاسر سے بالا ستقامۃ بدلتا ہے۔یوں ہی قوتِ مقسور سے بالقلب ہلکا بھاری پتھر ایك ہاتھ سے ایك قوت سے پھینکو ہلکا دور جائے گا بھاری کم۔
رابعًا: اس سے باطل ہوا تو دو فلك پر قسر ایك مثلًا محدود پر قسر کا کیا انکار ہوا۔
خامسًا: اختلاف مشہود ہے تو حرکات خاصہ کا حرکت یومیہ سب کو عام ہے اور اس کے اقطاب و جہت و قدر کچھ مختلف نہیں تو کیا محال ہے کہ سب میں قاسر واحد کے قسر واحد سے ہو غرض تفلسف ہے عجیب چیز۔
مقامِ چار دہم
فلك کی حرکت ارادیہ ہونا ثابت نہیں۔فلسفی یہاں دو شبہے پیش کرتا ہے۔
شبہ۱:فلك کی حرکت مستدیرہ ہے اور وہ طبعیہ نہیں ہوسکتی،نہ فلك میں قسریہ،ان شبہات سے کہ مقام۹ تا ۱۱ میں گزرے لاجرم ارادیہ ہے۔
اقول:اولا: یہ تلاش تو جب ہو کہ پہلے اس کی حرکت بھی ثابت ہو لے،اور ہم عنقریب واضح کریں گے کہ اس کی حرکت کا کچھ ثبوت نہیں۔
ثانیًا: بلکہ سکون ثابت ہے۔
ثالثًا: بلکہ فلك میں حرکت کی قابلیت تك ثابت نہیں۔
رابعًا: بلکہ اصول فلسفہ پر اس کا متحرك ہونا محال پھر ارادیہ وغیرارادیہ یعنی چہ۔
خامسًا ہم ثابت کرچکے کہ مطلقًا حرکت مستدیرہ اور خود فلك کی وضعیہ طبعیہ ہوسکتی ہے۔
سادسًا:قسریہ ہوسکتی ہے۔
شبہ ۲:ہمیں ایك ہی شے مطلوب یہی ہے مہروب بھی،یہ بغیر ارادہ ناممکن۔
اوّلًا: یہ وہی بات ہے کہ نفی طبعیہ میں کہی اور اس کے کافی و وافی ردو ہیں گزرے۔
ثانیًا: مانا کہ ارادہ ضرور،پھر یہی کیا لازم کہ متحرك کا ہو ممکن کہ محرك کا ہو کیا چرخ و مغزل فسان عــــــہ وغیرہ کی حرکات و ضعیہ نہ دیکھیں ان میں بھی وہی طلب و ترك ہے کیا ان کے ارادے سے ہے۔
عــــــہ:بمعنی سان جس پر چاقو وغیرہ تیز کیا جاتا ہے۔۱۲ الجیلانی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع