30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرچہ بارد ہے،مگر اس کی راہ ہی کیوں ہو سرے سے کہیں کہ ممکن کہ ایك یا لاکھوں کو کب اگرچہ انہیں ثوابت میں سے کہ نظر آتے ہیں یا ان کے غیر کہ بوجہ بعد شہود نہیں فلك اعظم میں ہوں اور وہ اپنی حرکت ارادیہ سے فلك کو دھکا دیتے ہوں کہ اجزاء پر استحالہ اینیہ ثابت نہیں۔
ثالثًا اقول:استوائے نسبت فاعل کی اب یہاں تك توسیع ہوئی کہ اختلاف طبائع و مواد و استعداد یہی اڑ گیا کہ قسر جانب فاعل سے ہوتا تو سب پر ہوتا۔
رابعًا اقول:فلك قاسر قاسر فلك کیا ضرور ہے کہ اپنی حرکت ہی سے قسر کرے ممکن کہ بعض ارادے سے مسخر کرلے جیسے ہمارا نفس اپنے جوارح کو۔ہم میں بھی یہ حرکت بہ نظر جسم حقیقیہ قسریہ ہی ہے کہ طبیعت جسم سے نہیں مگر ارادیہ کہلاتی ہے کہ وہ نفس اسی جسم سے متعلق ہے تو گویا تحریك خارج سے نہیں مگر فلك قاسر کا نفس دیگر افلاك سے متعلق نہیں اس کی تحریك ضرور قسری ہوگی اور حرکت ارادیہ پر انتہا لازم نہ ہوگی۔
خامسًا اقول:بالفرض ثبوت ہوا بھی تو اس قدر کا کہ کسی ایك فلك کی حرکت ارادیہ ہے وہ موجبہ کلیہ کدھر گیا کہ سب کی ارادیہ ہے اور وہ سالبہ کلیہ کیا ہوا کہ فلکیات میں کہیں قسر نہیں۔
شبہ ۴:افلاك اگر قسرسے متحرك ہوتے تو سب کی حرکت موافق قطبوں پر ایك ہی طرف ایك ہی مقدار پر ہوتی کہ سب قاسر ہی کی موافقت کرتے حالانکہ اختلاف مشہود ہے عــــــہ۱ علامہ خواجہ زادہ تہافت الفلاسفہ میں اسے نقل کرکے رَد کیا کہ یہ جب لازم عــــــہ۲ ہو کہ قاسر فلك ہی میں منحصر ہو اور یہ ممنوع ہے۔
اقول:خدا کی شان کہ ایسے مہملات بکنے والے عقل و حکمت کے مدعی ہیں۔
اوّلًا:وحدتِ قاسر کیا ضرور،ممکن کہ ہر ایك پر جدا قاسر ہو۔
ثانیًا:قسر بذریعہ حرکت وضعیہ ہی کیا ضرور کہ اقطاب وغیرہا میں موافقت لازم ہو۔
عــــــہ۱:پھر حکمۃ العین اور اس کی شرح میں بھی یہ مہمل دلیل نظر آئی اور وہی اس کا ایك جواب دیا جو ہمارا اولًا میں پیش پا افتادہ تھا۔۱۲ منہ۔
عــــــہ۲:اقول:جب بھی نہیں جیسا کہ ہمارے رَد سے واضح ہوگا غالبًا علامہ نے اسے تنزلًا فرمایا ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع