30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقام سیزدہم
حرکت قلب قسریہ ہوسکتی ہے،فلسفی اس کے استحالہ پر چند شبہات پیش کرتا ہے۔
شبہ ۱:قسر کو دوام نہیں اور حرکت فلك دائم۔
اقول:دونوں مقدمے مردود ہیں،ثانی کا رَدا بھی سن چکے اور اول کا رَد تعلیل ہفتم میں،
شبہ ۲:میل قسری نہ ہوگا میل طبعی کے خلاف اور فلك میں میل طبعی نہیں کہ میل مستدیر طبعی نہیں ہوسکتا کہ متروك بعینہ مطلوب ہے اور میل مستقیم کسی جہت کو اور جہات کی تحدید خود فلك سے ہے۔
اقول:ایك ایك حرف مردود ہے،مقام سوم و چہارم و نہم میں رد گزرے۔
شبہ ۳:فلك کی حرکت مستدیرہ فاعل کے قسر سے ہوتی تو سب اجسام میں ہوتی کہ فاعل کی نسبت سب سے یکساں ہے لاجرم اگر ہو تو کسی دوسرے فلك کے قسر سے اور اس کا قسریوں ہی ہوگا کہ وہ اپنی حرکت سے اسے حرکت دے جیسے ہاتھ کنجی کو،اب اس فلك کے قاسر میں کلام ہوگا اس کی حرکت ارادیہ پر انتہا لازم،تو ثابت ہوا کہ افلاك میں وہ ہے جس کی حرکت ارادیہ ہے،یہ اس دلیل کی توجیہ و توضیح و تلخیص و تقریب ہے جو امام حجۃ الاسلام نے فلاسفہ سے نقل فرمائی۔امام نے اس پر دو رد فرمائے۔
اوّلًا: مولٰی عزوجل فاعل مختار ہے۔
اقول:رَد میں اسی قدر بس ہے آگے جو ترقی فرمائی کہ اس کا فعل ہر جسم کے ساتھ مختلف ہونا اگر ان کی صفتوں کے اختلاف پر مبنی ہو تو ان صفتوں میں کلام ہوگا کہ یہ صفت اس جسم اور وہ اس جسم کے ساتھ کیوں خاص ہوئی،اس کی حاجت نہیں کہ بحث کو طول ہو اور ابطال قدم نوعی کی حاجت پڑے جیسا کہ مباحث صور نوعیہ میں معرو ف ہے۔
ثانیًا: کیا ضرور ہے کہ وہ جسم قاسر کوئی دوسرا فلك ہی ہو ممکن کہ اور کوئی جسم ہو کہ نہ کرہ ہو نہ محیط تو کسی فلك کی حرکت ارادیہ نہ ثابت ہوگی۔
اقول:نفی کرویت کی حاجت نہیں،نفی احاطہ پر اقتصار اولٰی کہ اسی قدر فلك نہ ہونے کو کافی،انہیں اس زعم کی گنجائش نہ دی جائے کہ وہاں کوئی ایسا جسم نہیں فلك سے ورانہ خلا و ملا اور افلاك متلاصق اور عنصریات ان کے زعم میں افلاك سے قابل ہیں نہ کہ افلاك میں فاعل یہ عذر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع