30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ ازلًا ابدًا کبھی نہ محیط کو پہنچی،نہ پہنچے تو دوامًا حیلولت افلاك سے مقسور ہے۔
دلیل سوم:اگرچہ ان کے یہاں مشہور وہی قول دوم ہے مگر ہم دلائل سے اول کو ترجیح دیں۔
اوّلًا: اگر پانی کا حیز طبعی زیر ہوا و بالا ئے ارض رہنا تھا تو واجب کہ جو کنواں جو سطح زمین کے برابر ہو تو اس پر کھڑے ہو کر کسی برتن سے پانی الٹیں کنارہ چاہ پر رك جائے اندر نہ گرے اور اگر کنویں کی من سطح ارض سے اونچی ہے تو جتنی بلند ہے وہاں تك پانی لے جائے سطح زمین کی محاذات پر فورًا رك جائے کہ یہیں تك اس کا حیز طبعی ہے اور حیز طبعی میں شے کو روك کے لیے کسی سہارے کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ اس سے تجاوز کے لیے قاسر کی ضرورت ہوتی ہے۔
ثانیًا: سطح زمین میں جو ڈھال اس کی اصلی حالت سے نیچا پیدا ہوگیا جیسے عام نالی وغیرہا،واجب ہے کہ پانی اس کی طرف متوجہ نہ ہو کہ وہ طالب سفل مطلق نہیں اور جس سطح کا طالب ہے یہ ڈھال اس سے نیچے ہیں،حالانکہ یقینًا پانی جتنا ڈھال پائے گا اس کا طالب ہوگا تو ضرور وہ سفل مطلق چاہتا ہے زمین کہ اس سے اثقل ہے مرکز تك پہلے پہنچ گئی ہے لہذا ا س سے محجوب ہے۔
ثالثًا: سمندر کا پانی تمہارے نزدیك اپنے حیز طبعی میں ہے کہ اس کنارے پر مثلًا ایك انگل کے فاصلے سے ایك گڑھا کھودیں پھر اس فاصلے کو پانی کی طرف ہاتھ مار کر توڑ دیں۔ہاتھ کے صدمے سے پانی قدر جانب خلاف کو ہٹ کر پھر پلٹے گا اب واجب تھا کہ پلٹ کر اپنی پہلی جگہ پر رك جاتا،غار میں نہ آتا کہ وہیں تك اس کا حیز طبعی ہے اور آگے حرکت پر کوئی قاسر نہیں نہ پانی صاحب ارادہ ہے کہ وہ بھی حکم قاسر میں ہے۔بلا قاسر حیز غریب میں جانا کیا معنی اگر کہیے اِس غار میں ہوا مقسور تھی کہ بوجہ استحالہ خلا نہ نکل سکتی تھی اب کہ اس نے دیکھا کہ دوسرا جسم یعنی پانی موجود ہے کہ میرے نکلنے پر اسے بھردے گا وہ نکلی اور پانی بضرورت خلا داخل ہوا۔
اقول:قطع نظر اس سے کہ یہ حیز ہوا و آب دونوں کے لیے غریب ہے ہوا کو کیا ترجیح ہے کہ وہ خود اس سے آزاد ہو کر پانی کو مقید کردے اگر ایسا ہے تو واجب کہ سمندر کا پانی تمام روئے زمین پر پھیل جائے کہ برابر کی ہوا حیز غریب میں ہے اور وہ اپنے پاس پانی دیکھ رہی ہے جو اس کے نکل جانے پر ضرورت خلاء کو پورا کردے گا تو کیوں نہیں اپنے حیز طبعی کی طرف اڑتی کہ پانی پھیل کر محیطِ زمین ہوجا ئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع