30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی مفقود۔
(۹)دعوٰی یہ تھا کہ غرض کا حصول بالفعل واجب،اور دلیل یہ کہ حصول محال ہو تو کمال ثانی نہ رہے،کہاں بالفعل حاصل نہ ہونا کہاں محال و ممتنع ہونا،بہت حرکات ہیں کہ ان کی غرض ان پر کبھی مترتب نہیں ہوتی بے کارجاتی ہیں،کیا وہ حرکت ہونے سے خارج ہوگئیں۔
(۱۰)استحالہ حرمان طبیعت ممنوع۔
(۱۱)بعد حصول غرض لزوم انقطاع ممنوع ممکن کہ ہمیشہ غرض دیگر پیدا ہوتی رہے۔
(۱۲)تو حرکت طبعیہ کا وجوب انقطاع ممنوع۔
مقام دوازدہم
طبیعت کا دائمًا اپنے کمال سے محروم رہنا محال نہیں،فلسفی محال کہتا ہے اور اس پر اس مقدمہ کی بنا کرتا ہے کہ دوام قسر محال۔
اقول:یہ مقدمہ ہمارے نزدیك یوں ہے کہ ازل میں کوئی شے قابل مقسور ہوئی نہیں تو قسر نہ ہوگا مگر حادث،لیکن جس طرح فلسفی کہتا ہے ہرگز صحیح نہیں کمال تك ایصال فعل ذی الجلال ہے اور اس پر کچھ واجب نہیں،کلام یہاں مزعوم فلسفی پر ہے،لہذا اسی کے زعم پر بعض دلیلیں پیش کریں۔
فاقول:(پس میں کہتا ہوں ت)دلیل اوّل:ہم نے مقام اول میں ثابت کیا کہ بسیط کی شکل طبعی کرہ مصمتہ غیر مجوفہ ہے اور افلاك سب مجوف ہیں اور ان کے نزدیك اسی شکل پر ازلی ابدی دائمًا اپنے کمال طبعی سے محروم ہیں۔
دلیل دوم:فلاسفہ مختلف ہیں کہ نَار و ہوا دونوں طالب محیط اور ارض وماء دونوں طالبِ مرکز ہیں،یا نار طالب محیط عــــــہ اور ہوا کا حیز زیر حیز نار وبالائے حیز آب ہے اور ارض طالب مرکز اور
|
عــــــہ:فی حکمۃ العین وشرحھا(البسیط العنصری(ان تحرك عن الوسط فہو الخفیف المطلق ان طلب نفس المحیط وھو النار(والا فالخفیف المضاف) |
حکمۃ العین اور اس کی شرح میں ہے کہ بسیط عنصری دو۲ حال سے خالی نہ ہوگا کہ وہ وسط سے حرکت کرے گا یا وسط کی طرف حرکت کرے گا۔اگر وسط سے کرے گا تو پھر دو حال سے خالی (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع