30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رَدِّ اوّل:کیسے نقطے اور کیسی وضعیں،کس کی طلب اور کس سے ہرب،تمہارے نزدیك جسم متصل وحدانی ہے نہ اس میں اجزاء بالفعل ہیں نہ حرکت موجودہ میں دونوں کی تجزی وہم میں ہے تو کیا محال ہے کہ بعض اجسام کی طبیعت مقتضی حرکت مستدیرہ ہو یوں کہ نفس حرکت مطلوب ہو۔ عــــــہ۱ (امام حجۃ الاسلام فی تہافت الفلاسفہ)
اقول:امام کی شان بالا ہے،فقیر کو،تامل ہے،یہاں شك نہیں کہ اجزاء اگرچہ بالفعل نہیں ان کے مناشی انتزاع موجود ہیں اور ان میں ہر ایك کی طرف اشارہ حسیہ جدا ہے اور یہی امتیاز ان کے لیے امتیازا وضاع کا ضامن ہے اور یہ امتیازقطعًا واقعی ہے اعتبار کا تابع نہیں اس منشا کو دوسرے جسم کے جز موجود یا اس کے منشا سے جو محاذات یا قرب و بعد ہے یقینًا دوسرے جز یا اس کے منشا سے اس کا غیر ہے اسی قدر طلب و ترك اوضاع کو بس ہے تو ایراد میں صرف جملہ اخیرہ پر اقتصار چاہیے یعنی کیا ضرور ہے کہ حرکت وضعیہ طلب اوضاع ہی کے لیے ہو کیوں نہیں جائز کہ نفس حرکت مطلوب ہو۔علامہ خواجہ زادہ عــــــہ۲ نے اس منع کا ایضاح کیا کہ حقیقت حرکت
عــــــہ۱:قزوینی نے حکمۃ العین میں اس اعتراض میں امام کی تقلید کی اور میرك بخاری نے شرح میں اس کی تائید کی۔طوسی نے شرح اشارات میں اس اعتراض کا مہمل جواب دیا تھا اسے رد کیا جواب یہ تھا کہ شیئ کا مقتضٰی اس کے دوام سے دائم رہتا ہے۔تو جسم قادرالذات حرکت غیر قارہ کا کیونکر مقتضی ہوسکتا ہے بلکہ کسی اور غرض کا مقتضی ہوگا۔شارح نے رد کیا کہ بحسب تجددو توالی امور مقتضی ہوسکتا ہے۔
وانا اقول:(اور میں کہتا ہوں ت)موجودہ حرکت بمعنی التوسط ہے،وہ غیر قار نہیں اور بلاشبہ دائم رہ سکتی ہے،متجدد و منصرم حرکت بمعنی القطع ہے وہ نہ مقتضے نہ موجود بلکہ انتزاع وہم ہے۔پھر شارح حکمۃ العین نے خود حواشی علامہ قطب شیرازی سے یہ جواب نقل لیا۔اور مقرر رکھا کہ جب حالت مطلوب حاصل ہوتی ہے۔طبیعت حرکت تھمادیتی ہے۔یہ جواب جیسا ہے خود ظاہر لاجرم علامہ سید شریف نے حواشی میں فرمایا کہ یہ جب ہو کہ حرکت کے سوا کوئی اور فرض مطلوب ہو اور جب خود حرکت مطلوب یعنی محترك رہنا ہی مقتضائے طبع ہو تو انقطاعِ حرکت کیا معنی ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:علامہ نے دلیل فلاسفہ پر ایك اور رَد کیا کہ وضع متروك معدوم ہوجائے گی اور تمہارے نزدیك (باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع