30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرج نہیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
دوسرے وقت میں(یعنی تمام دورہ کے بعد اس پر آتے وقت نیز غرض حرکت چیز دیگر ہے۔(یعنی مثلًا مفارق سے تشبہ)اور یہ طلب و ہرب دونوں بعرض تو اجتماع میں حرج نہیں،شرح حکمۃ العین میں اس پر رد کیا کہ بلاشبہ طلب و ہرب وقت واحد میں ہے کہ جہاں سے چلا اسی وقت تو اس کی طرف متوجہ ہے اور حرکتِ واحدہ میں شیئ واحد کی طلب و ترك معًا ارادۃ بداہۃً محال ہے اگر دونوں بالعرض ہوں اور خود یوں تقریر کی کہ اس وقت ہرب مثلًا اس نقطے سے ہے اور توجہ اس کے برابر والے نقطہ کی طرف یہ توجہ اس پہلے کی طرف بھی توجہ بالعرض یوں ہوگئی کہ وہ اسی جہت توجہ میں واقع ہے ورنہ اس ارادے میں وہ مطلوب نہیں۔ہاں تمامی دورے کے بعد پھر مطلوب ہوگا،مگر وہ ارادہ جدید ہوگا۔ہر ہر نقطہ کا تازہ ارادہ ہے۔طبیعت غیر شاعرہ سے ایسا نہیں ہوسکتا۔(شرح مذکور[1]مع حاشیہ علامہ سید شریف)
اقول:اوّلًا: بات وہی تو ہوئی جو اس بعض نے کہی تھی کہ ہرب ایك وقت میں ہے طلب دوسرے وقت،شرح کی تقریر صرف اس کی شرح ہے۔
ثانیًا: جب اختلاف وقت حاصل تو شیئ واحد کے مطلوب و مہروب بالعرض ہونے میں حرج نہ ہونا اور بالعرض کی قید اس نے اس لیے لگائی کہ وہی مطلوب بالذات ہوتا اس تك پہنچ کر انقطاع حرکت لازم تھا۔فافہم۔
ثالثًا: متن میں ہماری تقریر دیکھئے کہ طبیعت غیر شاعرہ سے بھی ایسا ناممکن۔
رابعًا:حرکت وضعیہ اگر حرکتِ واحدہ ہے تو کل جسم کے لیے اس میں نہ کسی وضع کی طلب ہے نہ ترك کہ اس سے کل کی وضعیں بدلتی ہی نہیں ہر جز کی بدلے گی اور حیز کے اعتبار سے ہر ہر نقطہ سے دوسرے تك حرکت تازہ ہے تو مختلف وقتوں میں مختلف حرکتیں ہیں۔کیا محال ہے کہ ایك وقت و حرکت میں ایك نقطہ بالطبع مطلوب اور دوسرے وقت و حرکت میں مہروب ہو۔جیسے قطرہ کہ اترتا ہے ہر آن ایك جز مسافت پر آنا چاہتا اور اس پر آکر اسے چھوڑنا چاہتا ہے اس کا جواب شارح نے یہی دیا تھا کہ یہ دو حرکتوں میں ہوا نہ حرکت واحدہ میں،وہی جواب یہاں ہے ۱۲ منہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع