30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثابت ہوا۔اور اگر خارج سے ہو تو ضرور جسم میں کوئی مبدء میل طبعی ہے کہ طبع نہیں تو قسر نہیں۔
(۲)حیز نہ بدلے تو وہی تقریر سابق اور بدل سکے تو ہر جسم کے لیے ایك حیز طبعی ہے جب اس سے جدا ہو ضرور ہے کہ بالطبع اسے طلب کرے یہی مبدء میل مستقیم ہے۔
اقول:اوّلًا: وہ مقدمہ کی طبع نہیں تو قسر نہیں کہ دونوں دلیلوں کا مبنی ہے مقام چہارم میں باطل ہوچکا۔
ثانیًا: ہر جسم کے لیے حیز طبعی ہونا مقام پنجم میں باطل ہوا۔
ثالثًا: کیا محال ہے کہ مقتضی طبع بعض اجسام سکون محض ہو اور انتقال سے مطلقًا اباء تو تبدیل وضع جائز نہ ہوگی نہ اس لیے کہ یہ وضع خاص مقتضائے طبع ہے بلکہ اس لیے کہ طبع کو انتقال سے اباء ہے جیسے وہ ثقیل کہ مرکز یا خفیف کہ محیط کو واصل ہو ضرور اسے اجسام مخصوصہ سے ایك بین فصل ہوگا جسے وہ بدلنا نہ چاہے گا نہ اس لیے کہ خصوص فصل مطلوب ہے بلکہ اس لیے کہ اس کی تبدیل حرکت سے ہوگی اور وہ حرکت سے آبی۔
رابعًا: اگر بالفرض ہر جسم کے لیے حیز طبعی ہو تو دلیل سے اگر ثابت ہو ا تو اس قدر کہ حیز کی تعیین طبیعت کرے کہ ترجیح بلا مرجح نہ ہو وہ حیز و طبیعت میں مناسبت سے حاصل کہ اسی قدر ترجیح کو بس ہے بحال زوال طلب و عود کی کیا ضرورت کہ یہ نہ لازم مناسبت ہے نہ شرطِ ترجیح ممکن کہ جسم میں حرکت کی صلاحیت ہی نہ ہو جہاں اٹھا کر رکھ دیں وہیں رہ ہوئے۔
خامسًا: اس عیّاری کو دیکھئے کہ دلیل دوم کو اس جسم سے خاص کرتے ہیں جو حیز بدل سکے حالانکہ وہ صحیح ہے تو یقینًا عام ہے کہ ہر جسم کے لیے ایك حیز طبعی ہے بدل سکے یا نہیں تو بغرض خروج ضرور بالطبع جس کا طالب ہوگا۔یہی مبدء میل مستقیم ہے۔
مقامِ دہم
حرکت وضعیہ کا طبعیہ ہونا محال نہیں،فلسفی محال جانتا اور جہاں قاسر نہ ہو ارادیہ واجب مانتا ہے،دلیل یہ کہ اس میں جو متروك ہے اسی آن میں مطلوب ہے جو نقطہ جہاں سے چلا وہیں آرہا ہے،یہ بات طبعیہ میں ناممکن کہ بالطبع کسی وضع کی طالب بھی ہو اور اس سے ہارب بھی بخلاف ارادہ کہ اعتبارات عــــــہ مختلفہ کا تصور کرکے ایك جہت سے طلب دوسری سے ہرب میں
عــــــہ:بعض نے یوں تقریر کی کہ ہرب ایك وقت میں ہے۔(یعنی جب وہاں سے چلا)اور طلب (باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع