30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی طبیعت میں کوئی ایسی چیز ہے یا نہیں کہ برتقدیر خروج اسے پھر یہاں لانا چاہیے اگر نہیں تو حیز طبعی نہ ہوا اور اگر ہاں تو اسی کا نام مبدء میل مستقیم ہے تو ثابت ہوا کہ اگر ہر جسم کے لیے حیز طبعی ضرور ہے تو ہر جسم میں مبدء میل مستقیم ضرور ہے اور فلك بھی ایك جسم ہے تو ضرور وہ بھی مبد میل مستقیم رکھتا ہے۔
ثانیًا:ہم ثابت کریں گے کہ اس میں مبد میل مستدیر نہیں تو ضرو رمبدء میل مستقیم کہ دونوں سے خلو محال جانتے ہیں(تبیین)
اقول:یہاں سے روشن ہوا کہ فلك محدد جہات نہیں کہ جس میں مبدء میل مستقیم ہے قابل حرکت اینیہ ہے اور حرکت اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو تو اس سے پہلے تحددجہات لازم،لہذا اس کا محدد ہونا محال۔
مقام ہشتم
فلك میں مبدء میل مستدیر نہیں۔
اقول:اوّلًا: یہ اسی مقام سابق عــــــہ سے ثابت کہ فلاسفہ کے نزدیك دو مبدء میل کا اجتماع محال۔
ثانیًا: ہم ثابت کریں گے کہ فلك پر حرکت مستدیرہ محال تو ضرور اس میں مبدء میل مستدیر نہیں کہ ہوتا تو حرکت محال نہ ہوتی کہ فلك پر عالق نہیں مانتے۔
مقامِ نہم
جسم میں کوئی نہ کوئی مبدء میل ہونا کچھ ضرور نہیں،فلسفی ضروری جانتا اور اس پر دو دلیلیں دیتا ہے۔
(۱)جسم اگر حیز بدل سکے تو میل مستقیم ہوا،نہ بدل سکے تو دوسرے اجسام سے جو اس کے اجزاء کی وضع ہے خاص وہی لازم نہیں،دوسری بھی جائز تو مع ثبات حیز وضع بدلناجائز ہوا۔یہ میل مستدیر ہوا۔بہرحال اگر طباعی ہے یعنی خود جسم کی طبیعت یا ارادے سے،تو اس میں مبدء میل
عــــــہ:مقام ششم کے ثانیہ میں اس مقام کا ثانیہ ملحوظ اورا س مقام کے اوّلًا میں مقام ششم کا اولًا فلادور ۱۲ منہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع