30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:ایجاد جسم معین بے تعیین حیز خاص متصور نہیں تو ایجاد کو اس پر توقف ہے اور کسی جہت کا اعتبار ان سب کا اعتبار ہے جو اس کے موقوف علیہ ہوں و لہذا تمہیں فاعل من حیث الایجاد کے اعتبار سے چارہ نہ ہوا کہ وجود اس پر موقوف ہے۔
سادسًا و سابعًا: آئندہ دو مقام ہیں۔
مقام ہفتم
فلك الافلاك میں میل مستقیم ہے۔
اقول:اوّلًا:یہ اسی حیز طبعی کی دلیل سے ثابت ہو کر فلسفہ کی عمارتیں ڈھا گیا حیز طبعی نہیں مگر وہ کہ طبیعت جسم اس میں کون و سکون کی مقتضی ہو یعنی جسم اس میں ہے تو سکون چاہے اور باہر ہو تو عود۔یہی مبد میل مستقیم ہے جس کا مقتضی بشرط خروج طلب عود اس کے لیے نہ وقوع عود ضرور نہ امکان عــــــہ خروج کہ یہ امور اقتضا سے خارج ہیں مقدم کا امکان شرط شرطیہ نہیں،کلام اس میں ہے کہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فصل مخصوص پر ہے،اگر اجزا کے مواضع بدل دیئے جائیں یہ فصل بدل جائیں ان میں وضع بمعنی دوم ہی حرکت وضعیہ سے بدلتی ہے اور بمعنی سوم نہ وضعیہ سے بدلے نہ اینیہ سے جب تك اجزاء متفرق ہو کر الٹ پلٹ نہ ہوں ظاہر ہے کہ اگر اجزاء یا ان کی نسبتیں باہم امور خارجہ سے نہ ہوں تو نفس کل میں کوئی تغیر بیان ہی نہیں۔لہذا یہ دونوں وصفیں کل کی اپنی ذاتی نہیں بواسطہ اجزا میں ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ:یہی فلسفہ اس مدعا پر کہ فلك کی محرك قوت جسمانیہ نہیں وہ دلیل لایا کہ اس قوت کا حصہ کل جسم یا بعض جس کی تحریك پر قادر ہو کل قوت بھی اس پر قاد رہوئی(تاآخر بیان مذکور تعطیل نہم)اس پر کھلے دو اعتراض تھے۔
(۱)اقول:جب قوت جسم میں ساریہ ہے تو اس کا تجزیہ نہ ہوگا مگر بہ تجزیہ جسم اور وہ تمہارے فلك پر محال تو نہ کوئی حصہ فوت ہے نہ کوئی جزو جسم جس پر دلیل چل سکے۔
(۲)قوت اسی کو حرکت دے گی جس میں حلول کیے ہے تو نہ کل قوت بعض جسم کی محرك ہوگی نہ بعض کل کی دلیل ماشی ہو یہ دوسرا خود متشدق جونپوری نے وارد کیا اور وہی جواب دیا نہ کلام محض فرض و تقدیر پر ہے کہ اگر ایسا ہو تو ان قوتوں کا اقتضاء یہ ہے یونہی یہاں ہے کہ بغرض خروج طلب عود لازم اور یہی مبدء میل مستقیم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع