30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلاف،ولہذا فلك پر قسر نہیں مانتے کہ اس میں کوئی میل طبعی نہیں جانتے۔
اقول:یہ باطل ہے اوّلًا: حکیم بننے والوں نے معنی لغوی پر لحاظ کیا کہ قسر جبر وا کراہ سے خبردیتا ہے اصطلاح بھول گئے جس کا مبدء خارج سے ہو سب قسری ہے اور جو کچھ نہ مقتضائے طبع ہو نہ مراد متحرک،یقینًا اس کا مبدء نہ ہوگا،مگر خارج سے تو قسر کو صرف اقتضاء درکار نہ کہ اقتضاء عدم ورنہ یہ صورت خارج رہ کر تین میں حصر عــــــہ باطل کرے گی۔اگر کہیے صرف عدم اقتضاء متصور نہیں کہ ہر جسم میں کوئی میل ضرور۔
اقول:عنقریب آتا ہے کہ یہ کلیہ اسی مقدمہ باطلہ پر مبنی تو اس کی اس پر بنا صریح مصادرہ و دور ہے۔
ثانیًا: فرض کردم کہ اقتضائے عدم ہی ضرور اس کے لیے اتنا بس کہ فعل قاسر کا نہ ہونا چاہیے،یہ کیا ضرور ہے کہ اس کے خلاف کسی دوسرے فعل کا تقاضا ہو اور میل تقاضائے فعل ہے۔
ثالثًا: مانا کہ تقاضائے فعل خلاف ہی ضرور مگر یہ کہاں سے کہ اس کی مقتضی نفس طبیعت ہو۔کیا ارادہ نہیں ہوسکتا۔تمہارے نزدیك افلاك میں میل طبعی نہیں ان کی حرکت ارادیہ ہے اب جس جہت کو وہ حرکت چاہتا ہے اگر اس کے خلاف یہ حرکت وضعیہ ہی دی جائے(کہ فلك پر حرکت مستقیمہ جائز ہونے نہ ہونے کا جھگڑا پیش نہ آئے)کیا یہ قسر نہ ہوگا،قطعًا ہوگا،حالانکہ میل طبعی نہیں ہم عنقریب ثابت کریں گے کہ فلك پر قسر جائز فلاسفہ اپنے زعم مذکور پر دودلیلیں پیش کرتے ہیں،ہمارے اس بیان سے دونوں رَد ہوگئیں۔ایك یہ کہ جسم پر قاسر قوی کا اثر زائد ضعیف کا کم ہونا بدیہی ہے،تو یہ نہیں مگر اس لیے کہ مقسور قاسر کی مزاحمت کرتا ہے،ضعیف پر غالب آتا ہے قوی سے مغلوب ہوجاتا ہے اور یہ مزاحمت نفس جسمیت سے نہیں تو ضرور جسم کے اندر کوئی اور چیز ہے کہ قاسر کی مزاحمت کرتی اور مکان یا وضع کی محافظت چاہتی ہے یہی میل طبعی ہے،یہ دلیل ان کی شیخ ابن سینا نے دی۔
اقول:اوّلًا:مزاحمت اقتضائے خلاف فعل ہے نہ کہ اقتضائے فعل خلاف اور محافظت طلبِ سکون نہ کہ طلبِ حرکت جو شان میل ہے۔
عــــــہ:یعنی حرکت کے تین اقسام طبعی،ارادی قسری میں کہ برتقدیر اقتضائے عدم صورت عدم اقتضاء کسی میں داخل نہیں۔۱۲ الجیلانی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع