30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس سے فوق نہیں اور جب ہوا میں یہ ہے یہی نار میں ہوگا وہ اس سے اخف ہے لہذا ا س سے زیادہ بعد عن التحت کی طالب ہے وبس،اور اس پر انہیں فلاسفہ کے اصول سے یہ اصل شاہد کہ وجود میں تعطیل نہیں طبیعت کا دوامًا اپنے کمال سے محروم رہنا محال،ظاہر ہے کہ اگر فوق حقیقی محدب فلك الافلاك ہو اور نار اس کی طلب اور افلاك پر خرق محال تو نار دائمًا اپنے کمال سے محروم رہے۔بلکہ جملہ عناصر سوا اس ذرہ زمین کے جو مرکز پر منطبق ہے کہ دو طالب محدب ہیں دو طالب مرکز اور اپنے مطلوب تك اس ذرے کے سوا کوئی نہ پہنچا۔
دوم: فوق کی طرف اشارہ حسیہ ہوتا ہے:
اقول:اگر یہ مراد کہ اس اشارے سے کسی شیئ خاص کو بتایا جاتا ہے جس پر اس اشارے کا روك دینا مقصود مشیر ہوتا ہے تو اولا اول نزاع ہے۔
ثانیًا: ہر گز یہ امر اشارہ کرنے والوں کی خیال میں بھی نہیں ہوتا کہ ہم کسی خاص سطح کو بتارہے ہیں۔
ثالثًا: بلکہ فوقیت کا زور کہیں رك جانا ان کے خیال کے خلاف ہے وہ یہی سمجھتے ہیں کہ تحت سے جتنا بھی بعد ہو سب فوق ہے نہ کہ ایك بعد معین پر جا کر فوقیت تمام ہوگئی۔اور اسلامی اصول پر تو اس کا بطلان اظہر من الشمس ہے قدرتِ ربانی محدود نہیں وہ قادر ہے کہ فلك الافلاك کے اوپر کوئی جسم پیدا کرے بلکہ عندالتحقیق واقع ہے فلك اطلس سے اوپر کرسی اس کے اوپر حاملانِ عرش ان سے اوپر عرش مجید،جیسا کہ امام المکاشفین شیخ اکبر قدس سرہ نے فتوحات میں تصریح فرمائی اور یہ زعم کہ کرسی فلك البروج کا نام ہے اور عرش فلك اطلس کا بشہادت احادیث مردود ہے۔
رابعًا: بعینہ ان کی تقریر اتصال و انفصال میں جاری ہر ذی شعور منافر عــــــہ سے انفصال کا طالب ہے اور بے شك اس کی طرف اشارہ حسیہ ہوسکتا ہے کہ اس طرف اتصال اور
عــــــہ: اقول:غیرشاعر اشیاء میں بنظر ظاہر پارہ اس کی مثال ہوسکتا تھا کہ آگ سے انفصال کا طالب ہے مگر ہم نے رسالہ میں تحقیق کیاہے کہ یہ پارے کافعل نہیں بلکہ آگ کا،اس کاکام نصعید رطوبات ہے جیسے پانی گرم کرنے میں اجزائے مائیہ کو بخار میں اڑاتی ہے اورپارے کے اجزائے رطبہ ویابسہ کی گرہ ایسی محکم ہے کہ آگ سے نہیں کھلتی ناچار رطوبات ویسی ہی گرہ بستہ اڑتی ہیں۔۱۲منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع