30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس میں تکثر نہ ہوا " فَاَنّٰی تُؤْفَکُوۡنَ ﴿۹۵﴾"[1](پھر کہاں اوندھے جاتے ہو۔ت)
تاسعًا اقول:خود ہزاروں چیزیں عنایت الہیہ کی طرف نسبت کرتے ہو،افلاك میں جوف افلاك میں پرزے تداویر کواکب وغیرہ وغیرہ یہ تکثر اضافات عنایت الہیہ کامکثر اور وحدت محضہ پرموثر باصدور کثیر عن الواحد کا موجب ہوا یانہیں،اگر نہیں تو ارادہ میں کیوں ہوگا،اور اگرہاں توتم خود مان چکے " فَاَنّٰی تُصْرَفُوۡنَ ﴿۳۲﴾"[2](پھر کہاں پھرے جاتے ہو۔ت)
عاشرًا اقول:حقیقت امر یہ ہے کہ مرتبہ وحدت محضہ مرتبہ ذات ہے اور مرتبہ ذات میں ایجاد ایجاب ہے اور باری عزوجل ایجاب سے منزہ،وہ فاعل بالایجاب نہیں بلکہ خالق بالاختیار ہے،اور خلق بالاختیار ارادہ و علم و قدرت پر موقوف وہ تو نہیں مگر مرتبہ صفات میں اور مرتبہ صفات اس وحدتِ محضہ کا مرتبہ نہیں " فَاَنّٰی تُسْحَرُوۡنَ ﴿۸۹﴾"[3](تو کہاں اوندھے جاتے ہو۔ت)
حادی عشر اقول::یہ تو ہمارے طور پر تھا لیکن تمہارے قضیہ نامرضیۃ الواحد لایصدر عنہ الاالواحد خود ہی تمہارے طور پر باطل و متناقض ہے کلام موثر من حیث ھو موثر یعنی موجود مفیض وجود میں ہے اور ایجاد و جود خارجی سے مشروط،جو خود موجود نہیں محال ہے کہ دوسرے پر افاضہ وجود کرے اس کا فاعل وموجد بنے،نیز وہ خصوصیت درکار جس کا نام مصدریت رکھا ہے تو ذات وتقرر ووجود و تعیین اور وہ خصوصیت سب قطعًا اس میں ملحوظ ہیں کہ بے ان کے موجد ہونا محال تو موثر من حیث ھو موثر کا واحد محض ہونا محال،اور تم نے اسے ایسا ہی فرض کیا وصف عنوانی کے حکم ضمنی میں نقیضین کو جمع کرلیا یعنی وہ واحد محض کہ ہر گز واحد نہیں اس سے ایك ہی شیئ صادر ہوگی۔ایسا جامع نقیضین خود ہی محال ہے نہ کہ اس سے کسی شے کے صدور و عدم صدور کی بحث نہ کہ اس سے صدور واحد کی تجویز تو استثناء کا حکم صریح بھی باطل۔
ثانی عشر اقول:ویسا واحد اگر ہوگا عــــــہ بھی تو نہ ہوگا مگر ظرف خلط و تعریہ میں کہ خارج میں
عــــــہ اس تحقیق کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف ابھی ایماء ہوا کہ موضوع میں نفس ذات من حیث ھی ھی ملحوظ نہیں بلکہ من حیث التاثیر جو امور شرائط تاثیر ہیں سب ملحوظ ہیں اگرچہ لحاظ اجمالی میں تفصیل ملتفت الیہ نہ ہو جیسے وجود نہار کا لحاظ یقینًا طلوع شمس کا لحاظ ہے۔اور بارہا اس وقت ذہن میں اس کی طرف التفات نہیں ہوتا۔ذہن اگرچہ ہر گو نہ غلط وتعریہ کا ظرف ہے مگر دونوں کو جمع نہیں کر سکتا۔جب موثر موثر من حیث ہو موثر کا لحاظ ہوا یہ خلط ہے پھر تعریہ کہاں تو ایسا موضوع ذہن میں بھی نہیں ہوسکتا۔اگر نفس ذات کا لحاظ کرو گے تو وہ یہ موضوع ہوگا قضیہ بدل جائے گا۔(۱۲ منہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع