30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا ایك مصدریت ضرور ذات سے زاید ہے تو ضرور ذات سے صادر ہے،یوں ہی ہم کہتے ہیں کہ فلك تاسع کے قطبین معین کرنا، جہت حرکت خاص کرنا،قدر حرکت مقرر کرنا یہ سب یہی ذات عقل پر زائد ہیں تو ضرور اس سے صادر ہیں تو عقل اول سے آٹھ صادر ہوئے اور جہتیں کل چھ،تو واحد محض سے تین کا صدور لازم۔
ثالثًا اقول:جب صادر آٹھ یا پانچ یا دو ہی سہی تو حسب تصریح دلیل فلاسفہ ان کی مصدریتیں ذات پر زائد اور اس سے صادر ہوں گی۔اور جب یہ صادر ہوئیں تو ان کی بھی مصدریتیں زائد و صادر ہوئیں یونہی تا غیر نہایت تو وہ تمام اعتراضات کہ یہ واحد سے صدور متعدد پر کرتے تھے۔عقل اول سے صدور عقل و فلك پر نازل ہوئے،تسلسل بھی ہوا،اور غیر متناہی کا دور حاصروں میں محصور ہونا بھی ہوا ایك عقل اول اور دوسرا فلك یا عقل ثانی اور واحد سے نہ متعدد بلکہ غیر متناہی کا صدور بھی ہوا شرك بھی کیا اور کال بھی نہ کٹا۔
رابعًا اقول:جب عقل اوّل میں چھ جہتیں ہیں اور ممکن کہ وہ بعض کا ایجاد ایك ایك جہت سے کرے-(واﷲ یہ لفظ ہمارے قلب پر ثقیل ہوتا ہے مگر کیا کیجئے کہ مشرکوں کے مزعوم ہی پر انہیں نیچا دکھانا ہے)اور بعض کا دو دو جہت کے وصل سے مثلًا بحیثیت مجموع امکان و وجوب یا مجموع امکان وو جود وغیرہ وغیرہ بعض کا جہات کی ترکیب ثلاثی،رباعی،خماسی،سداسی،سے اب چھ جہتیں[1]حاوی ہوئیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کرے اور اگر ذات مجعول نہیں یہ بھی اصلًا مجعول نہیں، نہ ذات کے نہ کسی کے ، جیسے صفاتِ باری عزوجل کہ لازم ذات و مقتضائے ذات ہیں نہ کہ معاذ اﷲ ایجابًا یا اختیارًا مجعول و صادر عن الذات اس تحقیق سے روشن ہوا کہ ہر ممکن اپنے وجود میں واجب کا محتاج ہے خواہ افاضہ وجود میں جب کہ اس کا وجود وجوب واجب سے جدا ہو خواہ اضافت وجود میں جب کہ جدا نہ ہو۔ اسی بنا پر ہمارے علماء نے علتِ احتیاج حدوث کو لیا، یعنی احتیاج الی الجعل ورنہ مطلقًا افتقار کو امکان کافی اور یہی ہے وہ کہ کرام عشیرہ اعنی ائمہ اشاعرہ نے تصریح فرمائی کہ صفاتِ علیہ مقتضائے ذات ہیں نہ کہ صادر عن الذات یہ فائدہ جلیلہ واجب الحفظ ہے وباﷲ التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع