30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وباﷲ التوفیق۔
اوّلًا اقول:عقل اول میں ایك جہت او زچ رہی وہ اس کا تشخص اس جہت سے ایجاد کیوں نہ کیا۔کیا مفارقت میں بخل ہے۔
ثانیًا اقول:فلاسفہ نے اسی دلیل میں کہا ہے کہ جب ایك سے دو صادر ہوں تو دونوں عــــــہ
عــــــہ:علت میں ایك خصوصیت ضرور جس کے سبب وہ معلول ہیں موثر ہو وہی مصدریت سے مراد ہے،نہ معنی اضافی،وہ خصوصیت عین ذاتِ علت ہے اگر نفس ذات موثر ہے ورنہ کوئی حالت اور ہر معلول کے لیے علت میں خصوصیت جدا گانہ لازم اب اگر واحد کا معلول واحد ہو تو مصدریت سے اس میں تعددلازم نہیں،جب نفس ذات علت ہے تو مصدریت عین ذات ہے لیکن جب دوہوں تو اگر نفس ذات کسی کی علت نہیں تو دونوں مصدریتیں ورنہ جس کے لیے نہیں اس کی مصدریت ذات پر زائد ہوئی اور ضرور ہے کہ وہ مصدریت ذات ہی سے صادر ہو کہ واحد کو علت مانا ہے نہ کہ جزء علت اب اس کے صدور میں کلام ہوگا۔اور غیر متناہی مصدریتیں لازم،اور وہ دو حاصروں میں محصور،واحد اور اس کا یہ معلول یہ وہ غایت تو جیہ ہے جو دلیل فلسفی کی کی گئی۔
اقول:اوّلًا: سب ایرادوں سے قطع نظر ہو تو موضوع قضیہ یعنی واحد محض اب بھی محال ہوگیا اور محال سے واحد کا صدور جائز ماننا صریح جہل ہے،مانا کہ مصدریت عین ذات ہو مگر فرق اعتباری قطعًا حاصل،ذات من حیث الخصوصیۃ یقینا ذات من حیث ھی ھی نہیں تو دو جہتیں اب یہی حاصل اور واحد محض کہ نفس ذات کے سوا کچھ نہ ہو نہ رہا فافھم۔
ثانیًا فائدہ جلیلہ:اقو ل:وباﷲ التوفیق۔(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔(ت)ذات میں جو کچھ زائد بر ذات ہو،کیا ضرور کہ صادر از ذات ہو یعنی ذات اس کی علت فاعلی و مفیض وجود ہو کہ صدور سے یہی مراد ہے کیوں نہیں جائز کہ لازم ذات ہو اور لوازم ذات مجعول ذات نہیں ہوسکتے کہ لازم ذات مرتبہ تقرر ذات میں ہے تقرر خود بھی ایك لازم ذات ہے اور مرتبہ تقرر مرتبہ وجود پر مقدم ہے تو لازم ذات اگر مجعول ذات ہو اپنے نفس پر دو یا تین مرتبے مقدم ہو لاجرم ان کا صادر عن الذات ہونا محال بلکہ ان کا وجود خود وجود ذات میں منطوی ہے اگر ذات مجعول ہے یہ بھی بعینہ اسی جعل سے مجعول ہیں نہ یہ کہ ذات جاعل ہو یا جاعل ذات،ان کا جعل جدا گانہ (باقی اگلے صفحہ پر)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع