30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دلیل عــــــہ لائے جس کے رد میں ہمارے اکثر متکلمین مصروف ہوئے،اور لم،ولا نسلم(کیوں اور ہم نہیں مانتے ت)کا سلسلہ بڑھا حالانکہ اس دعوٰی و دلیل کو ہاتھ لگانے کی اصلًا حاجت نہ تھی وہ ہمیں نہ کچھ مضر تھا نہ ان مشرکین کو اصلًا کچھ نافع جیسے قہار واحد کے بارے میں ا ن کا دعوٰی اور اس پر ان کی دلیل ہے۔مولٰی عزوجل اپنی خالقیت میں اس سے منزہ و متعالٰی ہے تو اس دعوٰی سے نہ خالقیت دیگر اشیاء اس سے مسلوب ہوسکتی ہیں نہ کسی دوسرے کے لیے ہر گز ثابت،قریب تر راہ وہ ہے کہ انہیں کی جوتی انہیں کا سر ہو،خبثاء سے پوچھا گیا کہ عقل اول بھی تو ایك ہی چیز ہے اس سے دو بلکہ چار بلکہ ابن سینا کے ظاہر کلام پر پانچ کیسے صادر ہوئے۔عقل ثانی اور فلك تاسع کا مادہ اور اس کی صورت اور اس کا نفس مجردہ اور نفس منطبعہ اس کا جواب دیتے ہیں کہ وہ اگرچہ اپنی ذات میں واحد ہے مگر جہات و اعتبارات رکھتی ہے اب مضطرب ہوئے بعض نے دو جہتیں رکھیں امکان ذاتی اور وجوب بالغیر ان دو جہتوں سے فلك وعقل اس سے صادرہوئے۔بعض چرچے کہ فکل میں نرا جسم ہی تو نہیں نفس بھی ہے تو دوجہتیں کیا کافی ہوں گی انہوں نے تیسری اور بڑھائی وجود فی نفسہ بعض اور چونکے اب بھی بس نہیں جسم فلك میں دو جوہر دھرے ہوئے ہیں۔ہیولٰی و صورت انہوں نے چوتھی اضافہ کی اس کا اپنے موجد کو جاننا،بعض نے شاید یہ خیال کیا کہ ابھی نفس منطبعہ رہ گیا انھوں نے پانچویں زیادہ کی کہ عقل کا اپنے آپ کو جاننا اس پر ہماری طرف سے کھلا اعتراض ہے کہ سفیہو ایسے جہات کیا مبدا اول میں نہیں اس کا وجوب ہے وجود ہے اپنی ذات کریم کو جاننا ہے اپنے ہر غیر کو جاننا ہے بے شمار سلب ہیں کہ نہ جوہر ہے نہ عرض نہ مرکب نہ متجزی نہ جسم نہ جسمانی نہ مکانی نہ زمانی نہ،نہ،نہ،الٰی آخرہ،خبثاء کا صریح ظلم کہ عقل میں جہات لے کر اسے تو موجد متعدد اشیاء مانیں اور یہاں محال جانیں،یہ حاصل ہے اس سہل وصاف راستے کا جو ہماری طرف سے چلا گیا مناسب ہے کہ ہم بتوفیقہ تعالٰی اس کی توضیح و تفصیل و تتمیم و تکمیل اور سفہائے فلاسفہ کی تسفیہ و تجہیل پھر حقیقت واقعہ کی تبیین وتسجیل کرکے بعونہ عزوجل آخر میں وہ ظاہر کریں جو شاید آج تك ظاہر نہ کیا گیا یعنی یہ کہ فلاسفہ کا دعوٰی الواحد لایصدر عنہ الاالواحد خود ہی فرض محال و تناقض و جنون ہے۔
عــــــہ:ہم بتوفیقہ تعالٰی اس دلیل پر بھی ایك نہایت مختصر و کافی کلام کردیں گے نہ اس لیے کہ اس پر کلام کی حاجت بلکہ اس لیے کہ اس سے بعونہ تعالٰی ایك فائدہ جلیلہ مسئلہ صفات الہیہ میں روشن ہوگا جس میں رائیں مضطرب و متحیر ہیں۔وباﷲ التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع