30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعترفون ثم لا تنصرفون ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنك رحمۃ انّك انت الوھاب، وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد و الہ وصحبہ بغیر حساب۔آمین |
ہوگئے تو پھر ایمان نہیں لاتے ہو۔اور اعتراف کرتے ہو پھر باز نہیں آتے ہو۔اے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی،اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشك تو ہی بڑا دینے والا ہے۔ |
اور درود نازل فرما ہمارے آقا ومولٰی محمد مصطفٰی پر،آپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر بغیر حساب کے،اے اﷲ ! ہماری دعا قبول فرما۔(ت)
مقام دوم
اﷲ واحد قہار ایك اکیلا خالق جملہ عالم ہے،خالقیت میں عقول وغیرہا کوئی نہ اس کا شریك نہ تخلیق میں واسطہ " ہَلْ مِنْ خٰلِقٍ غَیۡرُ اللہِ"[1] (کیا اﷲ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے،ت)بحمد اﷲ تعالٰی فاعل کا مختار ہونا آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا مگر فلاسفہ اور ان کے فضلہ خوار اس خلاق علیم کو صرف ایك شے عقل اوّل کا موجد جانتے ہیں باقی تمام جہان کی خالقیت عقول کے سر منڈھتے ہیں وہ تو عقل اول بنا کر معاذ اﷲ معطل ہوگیا۔عقل اول نے عقل ثانی و فلك تاسع بنائے عقل ثانی نے عقل ثالث و فلك ثامن،یوں ہر عقل ایك عقل اور ایك فلك بناتی آئی یہاں تك کہ عقل تاسع نے عقل عاشر و فلك قمر بنائے پھر عقل عاشر نے ساری دنیا گھڑ ڈالی اور ہمیشہ گھڑتی رہے گی اسی لیے اسے عقل فعال کہتے ہیں تو کہیں وہ بے دین یہ نہ سمجھیں کہ اس کا مختار ہونا ثابت ہوا، حاشا یا عالم میں کوئی نہ فاعل موجب نہ فاعل مختار،فاعل مطلق و فاعل مختار ایك اﷲ واحد قہار،یہ مسئلہ بھی نگاہ ایمان میں بدیہیات سے ہے۔اور عقل سلیم خود حاکم کہ ممکن آ پ اپنے وجود میں محتاج ہے دوسرے پر کیا افاضہ وجود کرے،دو حرفِ مختصر اس پر بھی لکھ دیں کہ راہِ ایمان سے یہ کانٹا بھی باذنہ عزوجل صاف ہوجائے۔یہاں ابلیس نے فلاسفہ کی راہ یہ سمجھا کر ماری کہ جو واحد محض ہو جہاں تعدد جہات بھی نہ ہو اس سے ایك ہی شیئ صادر ہوسکتی دوسری کسی شیئ کا اس سے صدور محال اور واجب تعالٰی ایسا ہی واحد ہے لہذا وہ صرف عقل اول بنا سکا باقی ہیچ۔وہ خبثاء اپنے اس مطلب پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع