30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واحدہ سے مادہ واحدہ میں محال ہے۔
ثانیًا: کلام ترجیح بلا مرجح میں ہے اس کے لیے اختلاف نوع کیا ضرور ایك نوع کی دو مساوی فردوں میں ایك کے اختیار کو کوئی مرجح درکار،وہ نہ بسیط کا مادہ ہوسکتا ہے نہ طبیعت نہ فاعل کہ اس کی نسبت سب طرف برابر ہے تومتمم حاوی کی رقت جانب اوج اور غلظت جانبِ حضیض اور محوی کی بالعکس نیز حسب سوال ۲۸ ہر ایك کا یہ معین دل کس طرح ہوا۔
ثالثًا: ہر متمم میں دو مستدیر سطحیں چھوٹی بڑی پیدا ہوں گی وہ بتصریح فلاسفہ مختلف بالنوع ہیں۔
رابعًا: یہ فلاسفہ اپنی ہیأت میں ہر متمم کی انتہاء ایك نقطہ پر بتاتے ہیں کہ حاوی میں اوج اور محوی میں حضیض ہے تو ہر ایك میں ایك نقطہ اور ایك سطح پیدا ہوئی یہ متباین انواع ہیں۔
خامسًا: شکل مثلث میں طبیعت کو چار مستوی مثلث سطحیں بنانی پڑیں گی اور مربع میں ۶ مربع،مثلث خواہ مربع سطحیں آپس میں متحد بالنوع ہیں خطوط و نقاط و زوایا طبیعت کو بنانے نہ ہوں گے وہ نہایت ابعادو تلاقی نہایات سے خود ہی پیدا ہوجائیں گے پھر بسیط کی شکل طبعی مضلع ہونی کیا دشوا ر۔
سادسًا: اب ایك اور ترجیح بلا مرجح گلے پڑی۔جب طبیعت بسیط کی شکل بیضی عدسی شلجمی کروی مثلث مربع مخمس حتی کہ متمموں کی طرح ہیات مسطحہ میں گویا ہلالی سب انداز کی بناسکتی ہے توبا وصف اتحاد مادہ و شمول قابلیت ایك کا اختیار اسے روا نہیں تو بسیط کا بننا ہی محال ہوا الحق فاعل مختار کو چھوڑنے والے زمین و آسمان میں کہیں مفر نہیں پاسکتے۔وﷲ الحجۃ البالغۃ۔
سابعًا: سب درکنار کرہ مجوف و بے خوف تو طبیعت کے بنائے ہوئے دونوں موجود ہیں۔آٹھ مصمت ۳۵ مجوف اگر اسے دونوں کا اختیار توفاعل مختار پر ایمان سے کیوں انکار،اور اگر وہ ایك ہی طرح کا چاہتی تھی ممانعت خارج سے ہوئی تو قسر کا دوام لازم فلکیات پر قسم لازم۔
(۳۰)ہر تدویراتنی ہی بڑی کیوں ہوئی کم و بیش کیوں نہ ہوسکی۔(مواقف)اگر کہیے حامل اتنا ہی دل رکھتا تھا۔
اقول:اولًا: اس کا اتنا ہی دل کس نے لازم کیا۔
ثانیًا: کیا ضرور کہ تدویر حامل کے مقعر و محدب کو بھردے کیوں نہ بیچ میں خواہ ایك کنارے پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع