30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا: مبدء میل ہونا مستلزم حرکت نہیں مانع سے تخلف ہوسکتا ہے۔(سید شریف)
اقول:نیز عدم شرط سےدیکھو زمین اور ہاتھ پر اٹھائے ہوئے پتھر میں مبدء میل ہے اور حرکت نہیں۔سیالکوٹی نے کہا حرکت مستدیرہ سے مانع صرف میل مستقیم ہے وہ افلاك میں نہیں۔
اقول:دونوں مقدمے غلط ہیں۔
(۱)ہم ثابت کریں گے کہ فلك پر قصر جائز۔
(۲)ثابت کریں گے کہ اس میں میل مستقیم ہے۔
(۳)مناط حرکت کمال ثانی ہے اور ہم ثابت کرچکے کہ وہ یہاں مقصود۔
ثالثًا اقول:تخصیص قطبین و قدر وجہت مادہ کرے گا یا صورۃ جسمیہ یا نوعیہ یا فاعل اجنبی ان پانچ میں حصر قطعی ہے اور پانچوں باطل،اول وسوم بوجہ بساطۃ،دوم و چہارم بوجہ استوائے نسبت،پنجم بلکہ چہارم بھی بوجہ لزوم قسر،جب اس شق کا بطلان نامعلوم تخصیص یقینًا معدوم،پھر اس کہنے کے کیا معنی کہ ضرور کسی وجہ سے ہوئی۔
رابعًا اقول:مناظرہ میں معارضہ کا دروازہ ہی بند کردیا ہر معارضہ پر مستدل یہی کہہ دے گا کہ میں مدعا دلیل سے ثابت کرچکا یہ استحالہ جو تم بتاتے ہو کسی وجہ سے ضرور مندفع ہے گو ہمیں نہ معلوم ہو،یہ ہے منطق میں ان کا عمر گنوانا۔
(۳)اقول:فلك اطلس کے لیے یہ قدر حرکت کہ ۲۳ گھنٹے ۵۶ دقیقے ۴ ثانئے ۵ ثالثے ۲۶ رابعے میں دورہ پورا کرے کسی نے معین کی،اگر کہیے فلك کی حرکت ارادیہ ہے اس نے اتنا ہی ارادہ کیا۔
اقول:یہ ترجیح بلا مرجح ہے کہ اس کا مقصود تبدل اوضاع تھا وہ ہر قدر حرکت سے حاصل تھا۔نہیں نہیں ترجیح مرجوح ہے،کہ حرکت وصول الی المطلوب کے لیے مقصود بالعرض ہے اگر بلا حرکت وصول ہوسکتا حرکت نہ ہوتی اور مقصود جس قدر جلد حاصل ہو بہتر،تو واجب تھا کہ اس سے سریع تر حرکت چاہتا اس قدر کا ارادہ قصد مقصود میں تعویق ہے اگر کہیے یوں تو ہر اسرع سے اسرع متصور ہے۔تو جو مقدار اختیار کرتا اس پر یہی سوال ہوتا کہ اس سے اسرع کیوں نہ کی۔
اقول:ضرور ہوتا اور تمہیں اس سے مفر نہ تھا اس سوال کا انقطاع بے اس کے ناممکن نفس ارادہ کو مخصص ومرجح مانیں اور اس میں تمام فلسفہ کی عمارت زائل اور ہمارا مقصود حاصل،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع