30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:نفس کے فعل کو استعداد مادہ درکار یا وہ بطور خود اپنے ارادے سے جسے چاہے تخصیص کردے۔علی الثانی مسئلہ فیصل اور ہمارا مطلب حاصل جب فلك کا نفس اور وہ بھی منطبعہ محض اپنے ارادے سے تخصیص کرتا ہے تو اﷲ عزوجل سب سے اعزو اعلٰی ہے،فمالکم لاتؤمنون(تمہیں کیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے ہو۔ت)برتقدیر اول یہ استعداد یہیں تھی یا تمام سطح فلك میں اوّل اختلاف مادہ ہے اور دوم وہی آش درکاسہ کہ ترجیح بلا مرجح لازم طوسی عــــــہ نے اور بڑھ کر کہی کہ دلیل بتاچکی کہ فلك قابل حرکت مستدیرہ ہے تو ضرور اس میں مبدء میل مستدیر ہے تو ضرور وہ متحرك بالاستدارہ ہے تو قطبین وجہت و قدرو حرکت کی تخصیص ضرور کسی وجہ سے ہوئی،و ہمیں نہ معلوم۔ان شاء اﷲ تعالٰی
(رَد)اوّلًا اقول:قابلیت استدارہ کی قلعی عنقریب مقام ۱۶ میں کھل جائے گی۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ترجیح کسی وجہ سے کی ہو،جس کا جاننا ہمیں کیا ضرور۔
اقول:جواب تو ابھی سنو گے مگر تف ہے ان کے ادعائے علم و حکمت پر کہ فلك پر یہ اعتقاد رکھیں اور خالق افلاك عزجلالہ کے حق میں اس اعتقاد کو حرام جانیں وہاں نہیں کہتے کہ وہ جو چاہے کرے اس کی حکمتیں وہی جانے،اگر کوئی مرجح ہی ضرور ہے تو اس کے علم میں ہوگا ہمیں اس کا جانناکیا ضرور۔یوں کہو تو عامہ ظلمات فلسفہ خبیثہ سے نجات ہی نہ پاؤ،نہیں نہیں وہاں تویہ کہو گے جو مقام پنجم میں آتا ہے کہ فاعل اپنی طرف سے تخصیص نہیں کرسکتا۔اسی مستشرق جونپوری نے لا یمکن منہ [1] کہا ہے۔
|
ان لھم ولادعائھم العقل فضلا من ادعائھم الاسلام، عــــــہ:نقلہ السیالکوتی فی حاشیۃ شرح المواقف ۱۲ منہ۔ |
ان کا دعوٰی عقل ہی صحیح نہیں چہ جائیکہ دعوی اسلام(ت) اس کو سیالکوٹی نے شرح مواقف کے حاشیہ میں نقل کیا ہے ۱۲ منہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع