30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوجائے گا تو اسی وقت حرکت کا انقطاع واجب اور کوئی حرکت منقطعہ حرکت فلك نہیں کہ کوئی حرکت فلك منقطعہ نہیں،بالجملہ یا تو یہ حرکت ہی نہیں یا حرکت ہے تو حرکتِ فلك نہیں۔بہرحال حرکتِ فلك باطل۔
سادسًا: مفارقات تجدد و تغیرّ سے بری ہیں تو ان سے تشبہ سکون و قرار میں تھا نہ کہ ہمیشہ کی سرگردانی و تغیر و بے قراری میں۔
سابعًا: مانا کہ یوں بھی کوئی تشبہ ملتا تو سکون سے یہ تشبہ حاصل کیا مرجح ہوا کہ اس تشبہ کو چھوڑ کر اسے لیا۔
ثامنًا: بلکہ تشبہ بالسکون ابتدًا خود فلك کو ملتا کہ تغیر سے جدا رہا اور حرکت میں اسے اصالۃً تشبّہ نہیں کہ اس کی اپنی ذاتی وضع نہ بدلی بلکہ اجزائے موہومہ کی جن کا وجود خارج میں محال کہ خرق جائز نہیں مانتے تو یہ تشبہ اصالۃً ان موہوماتِ ناممکنہ کو ہوا نہ کہ فلك کو،اور وہ فلك کو بھی ہوتا اور ان موہومات کو بھی،تو وہی راجح تھا۔یہ ترجیح مرجوح ہوئی۔اس کی تحقیق مقام پنجم میں آتی ہے ان شاء اللہ۔
تاسعًا: اسے لیا بھی تھا تو ایك ہی تشبہ کا دائمًا التزام اور دوسرے سے ہمیشہ انحراف کیا معنی،کبھی یہ ہوتا کبھی وہ کہ جملہ وجوہ تشبہّ حاصل ہوتے۔
عاشرًا: یہی تشبہ لیا سہی قطبین کا التزام غرض مقصود کے سخت منافی ہوا کہ ایك ہی قسم کا تبدل اوضاع حاصل ہوا واجب تھا کہ ہر دورہ نئے قطبین پر ہوتا کہ حتی الوسع استیعاب وضع ہوتا۔تلك عشرۃ کاملۃ(یہ پوری دس ہیں۔ت)
(۳)عــــــہ۱ وضعیہ کے لیے تعیین قطبین ضرور،اور فلك پر ہر دو نقطے قطبین بن سکتے ہیں۔
اقول:جو عظیمہ لیجئے اس کے دو متقاطر نقطے قطبین ہوسکتے اور ایك عظیمہ میں غیر متناہی نقاط ممکن،اور سطح فلك پر غیر متناہی عظیمے ممکن،تو یہ غیر متناہی دس غیر متناہی سے ایك کی تخصیص کیونکر ہوئی۔اس عــــــہ۲ کا جواب دیا گیا کہ یہ تخصیص فلك کے نفس منطبعہ سے ہے۔
عــــــہ۱:مواقف محل مذکور ۱۲ منہ
عــــــہ۲:یہ جواب سوال ۲ سے بھی ہے،جونپوری نے منطبعہ کی قید نہ لگائی،بلکہ اس بحث میں کہ ہر جسم میں میل ضرور ہے،تخصیص قطبین و منطقہ کا چاك رفو کرنے کو کہا،ممکن کہ نفس شاعرہ فلك نے یہ (باقی اگلے صفحہ پر)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع