30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں سے ایك خود ہی راجح ہوجائے یہ یہاں نہیں کہ نفس ارادہ مرجح ہے اور ترجیح بلا مرجح میں مصدر اگر صرافت مصدریت پر ہو یا مبنی للفاعل تو ہر گز محال نہیں،بداہۃً واقع ہے،ہاں مبنی للمفعول ہو تو محال کہ وہی ترجیح بلا مرجح ہے۔فلسفی اس کے فاعل مختار ہونے سے کفر و انکار رکھتا ہے مگر الحمد ﷲ کہ افلاك و کواکب اور ان کی حرکات نے اپنے خالق عزوجل کا مختار مطلق ہونا روشن کردیا اور خود فلسفی کے ہاتھوں فلسفی کے منہ میں پتھر دے دیا،فلسفہ کا اِدّعاء ہے کہ۔
(۱)افلاك بسیط میں ہر فلك کی طبیعت ۱واحد،۲مادہ واحد ہے،اگرچہ باہم افلاك کے طبائع و مواد مختلف ہیں۔
(۲)طبیعت واحدہ مادہ واحدہ میں ایك ہی فعل نسق واحدہ پر کرسکتی ہے۔اختلاف ممکن نہیں ولہذا ہر بسیط کی شکل طبعی کرہ ہے کہ وہی نسق واحد پر ہے بخلاف مثلث مربع وغیرہ کہ ان میں کہیں سطح ہے کہیں خط کہیں نقطہ،یونہی اور اختلاف بھی سبب ہے کہ پانی کی جو بوند گرے آگ کا جوپھول اڑے اس کی شکل کروی ہوتی ہے۔
(۳)فاعل عــــــہ دو متساویوں میں اپنی طرف سے ترجیح نہیں کرسکتا کہ اس کی نسبت سب طرف
عــــــہ:متفلسف جونپوری نے اپنی ظلمت نازغہ مسمے ظلمًا شمس بازغہ کی فصل حیز میں کہا۔
|
وجود الجسم بدون فاعل وان کان غیر ممکن لٰکن نسبۃ الفاعل الٰی جمیع الاحیاز علی السواء فلا یمکن تعیین الحیز منہ مالم یمکن لطبیعۃ الجسم خصوصیۃ معہ [1]۔ |
جسم کا وجود بغیر فاعل کے اگرچہ ناممکن ہے لیکن فاعل کی نسبت چونکہ تمام حیزوں کی طرف برابر ہے لہذا کسی خاص حیز کے ساتھ فاعل کی طرف سے جسم کی تعیین ممکن نہیں جب تك طبیعتِ جسم کو اس حیز کے ساتھ کوئی خصوصیت حاصل نہ ہو۔(ت) |
دیکھو کیسا صاف کہا کہ خالق کو قدرت نہیں کہ جسم کو کسی خاص حیز میں پیدا کرسکے جب تك طبیعت ہی کو اس حیز سے کوئی خصوصیت نہ ہو۔
|
" کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿۳۵﴾ "[2]۱۲۔منہ غفرلہ |
یونہی مہر کردیتا ہے اﷲ تعالٰی متکبر سرکش کے سارے دل پر۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع