30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی تقریب یوں ہوئی ۱۸ صفر ۱۳۳۸ھ کو ولداعزہ مولنا مولوی محمد ظفر الدین بہاری اعلی مدرس عالیہ شہسرام جعلہ اﷲ کا سمہ ظفر الدین نے ایك سوال بھیجا کہ امریکہ کے کسی مہندس نے دعوی کیا ہے کہ ۱۷ دسمبر ۱۹۱۹ء کو اجتماع سیارات کے سبب آفتاب میں اتنا بڑا داغ پڑے گا کہ اس کے باعث زلزلے آئیں گے۔طوفان شدید آئے گا،ممالك برباد کردیئے جائیں گے۔یہ ہوگا وہ ہوگا،غرض قیامت کا نمونہ بتایا تھا یہ صحیح ہے یا غلط؟ اس کا جواب چند ورق پر دے دیا گیا کہ یہ محض اباطیل بے اصل ہیں نہ وہ اجتماع سیارات اس تاریخ کو ہوگا جس کا وہ مدعی ہے،نہ جاذبیت کوئی حقیقت رکھتی ہے اس کے ضمن میں بعض دلائل رَدِّ حرکت زمین کے لکھے جب انہیں طویل ہوتا دیکھا جدا کرلیے اور رَد فلسفہ جدیدہ میں بعونہ تعالٰی کا فل وکافل کتاب فوزمبین لکھی اس کی تذلیل نے رد فلسفہ قدیمہ کی تقریب کی جسے اس سے جدا کرکے بحمدہ تعالٰی یہ کتاب الکلمۃ الملھمۃ تیار ہوئی۔
والحمدﷲ رب العلمین اب ہم ان مقاماتِ عالیہ کو ذکر کریں وباﷲ التوفیق و بہ الوصول الٰی ذری التحقیق(اور توفیق اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے اور اسی کے ذریعے تحقیق کی چوٹیوں تك رسائی ہوسکتی ہے۔(ت)
مقام اوّل
اﷲ عزوجل فاعل مختار ہے اس کا فعل نہ کسی مرجح کا دستِ نگر نہ کسی استعداد کا پابند یہ مقدمہ نظر ایمانی میں تو آپ ہی ضروری و بدیہی۔
|
" وَ یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَآءُ ﴿٪۲۷﴾"[1] " فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿ؕ۱۶﴾"[2] |
اور اﷲ جو چاہے کرے،جب جو چاہے کرے،اختیار اسی کو ہے۔(ت) |
یوں ہی عقل انسانی میں بھی آدمی اپنے ارادے کو دیکھ رہا ہے کہ دو متساویوں میں بے کسی مرجح کے آپ ہی تخصیص کرلیتا ہے۔ دو جام یکساں ایك صورت ایك نظافت کے دونوں میں ایك سا پانی بھرا ہو۔اس سے ایك قرب پر رکھے ہوں۔یہ پینا چاہے ان میں سے جسے جی چاہے اٹھالے گا۔ایك مطلوب تك دو راستے بالکل برابر ویکساں ہوں جسے چاہے چلے گا۔ایك سے دو کپڑے ہوں جسے چاہے پہنے گا۔پھر اس فعال لما یرید کے ارادہ کا کیا کہنا۔
اقول:(میں کہتا ہوں،ت)یہاں سے ظاہر ہوا کہ محال ترجیح بلا مرجح ہے،دو متساویوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع