30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موافق ہی حرکت کرے اور جب کسی بات میں مخالفت کی تو ضروری حرکت فلك سے تبدیل اور طرح کی ہوگی اور حرکتِ ارض سے اور طور کی،پھر استغناء کیوں !
سادسًا: فرض کیا کہ زمین موافقت پر مجبور تو ہم دیکھتے ہیں فلك الافلاك حرکت یومیہ کررہاہے اور فلك البروج در قول ممثل متفق اقطاب وجہت ومقدر پر ایك سی حرکت ہے،اگر سب سے اختلاف ضرور تو یہ آٹھوں متفق کیے اور اگر بعض سے کافی تو زمین اگر فلك الافلاك کے موافق متحرك ہو تو ان آٹھ کی مخالفت ہے،ان آٹھ کے موافق تو اس ایك سے پھر استغناء کیسا !
سابعًا: فرض کیا کہ سب افلاك ایك سے متحرك ہوں اور زمین بھی ان کے موافق پھر بھی زمین کو حرکت سے کون مانع تھا۔وہ ذی شعور ہیں جان کر بھی اوروں کی حرکت کو کسی نے اپنے لیے کافی نہ جانا،زمین کو کیا خبر کہ اور بھی کوئی اسی حرکت سے متحرك ہے میں کیوں کروں۔
ثامنًا: فلك ہی سے وضعیں بدلنا کیا ضرور،کُرہ نارا گر متحرك ہے اورہوا و آب تو ساکن ہیں ان سے وضعیں بدلیں گی۔
تاسعًا: مخالف کے نزدیك زمین کی حرکت وضع بدلنے کو نہیں بلکہ جذب سے نفرت یا ہر چیز کے کسبِ نور و حرارت کے لیے جس کی تقریر تجزیہ ۳۳ میں گزری۔
عاشرہ:بلکہ ہم نے الکلمۃ الملھمہ کے مقامِ نہم میں روشن کیا ہے کہ حرکت کے لیے کوئی غرض ہی ضرور نہیں نفس کی حرکت بھی مطلوب طبع ہوسکتی ہے۔
تعلیل ہفتم:جس پر تذکرہ سے آج تك اعتماد ہوا بلکہ طوسی عــــــہ۱ پھر جونپوری نے شمس بازغہ میں ۹۰،۹۱ دو صحیح دلیلوں کو رَد کرکے اسی پر مدار رکھا کہ طبیعت زمین میں مبدء میل مستقیم ہے جو ڈھیلا گرنے سے ظاہر اور جس میں مبدء میل مستقیم ہونا محال ہے کہ بالطبع عــــــہ۲ حرکت مستدیرہ بری اورہدیہ میں اسے یوں تعبیر کیا گیا اس میں مبدء میل مستدیر نہیں ہوسکتا۔
اقول:یہ دلیل بھی عــــــہ۳ نہ الزامی ہوسکتی ہے نہ تحقیقی۔
عــــــہ۱:یوں ہی طوسی کے تلمیذ قزوینی نے حکمۃ العین میں دلیل ۹۸ و رد کرکے ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:کاتبی مذکور نے مطلق کہا کہ اس کو حرکت مستدیرہ محال ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۳:یعنی تعلیل سوم سے ہشتم تك چاروں تعلیلوں کا بھی یہی حال تھا جیسا کہ ان کے رَدّوں سے ظاہر ہوا۔۱۲ منہ غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع