30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فلك جب ثقیل نہ ہو خفیف بھی نہیں اگر کہیے اس کی لطافت یہ کہ نظر نہیں آتا۔
اقول:اولًا:اس میں نارو ہوا بھی شریک۔ثانیًا: عدم لون نظر نہ آنے کو کافی اگرچہ کتنا ہی کثیف ہو۔
ثالثًا: نظر نہ آنا تمہاری جہالت ہے یہ سقف نیلگوں کہ نظر آرہی ہے یقینًا فلك قمر ہے جس کا اسلامی بیان خاتمہ میں آئے گا ان شاء اﷲ تعالٰی پھر اصل تعلیل پر۔ثالثًا ورابعًا: در رَد اور زیر تعلیل ششم آسان ہیں۔
تعلیل چہارم:جرم عــــــہ لطیف متشابہ الاجزایعنی فلك سے حرکت مستدیرہ کی نفی اور جسم کثیف مختلف الاجزاء یعنی ارض کے لیے اثبات خلاف طبعیات ہے۔(تحریر مجسطی)
اقول:اولًا: ان کے نزدیك فلك کہاں تو نفی بنفی موضوع ہے۔
ثانیًا: اجزائے زمین طبعیت میں مختلف نہیں کہ مثل فلك بسیط ہے اور امور زائد میں اختلاف جیسے جہال اربال،یہ فلکیات میں بھی معلوم و مشہود کامل و مہتممات و مدار میں کواکب اور ان کی حرکات و جہات اور جب یہ ان آٹھ افلاك میں منافی بساطت نہ ہوافلك اعظم میں ہو تو کون مانع عدمِ علم علم عدم نہیں۔
ثالثًا: کون سا طبعیات کا مسئلہ ہے کہ کثافت مانع حرکت مستدیرہ ہے،غایت یہ کہ الطف انسب ہے۔تو محض خطابت ہوئی۔
رابعًا: ہوا سے نفی ہوئی تو حرکت طبعیہ ارض کی قسریہ پر کیا اعتراض۔
خامسًا و سادسًا: زیر تعلیل ششم۔
تعلیل پنجم:فلك میں مبدء میل مستدیر ہے اور زمین میں مبدء میل مستقیم تو دونوں کی طبیعت متضاد کہ اگر زمین حرکت مستدیرہ قسری تو اس میں شریك فلك ہوجائے اور اشتراك ضدین جائز نہیں۔(تحریر مجسطی) علامہ برجندی نے شرح میں اس پر دو اعتراض کیے۔
اول:تمہارے نزدیك فلك پر خرق محال تو کیونکہ معلوم ہوا کہ اس کے اجزاء میں میل مستقیم نہیں۔
دوم:کیا محال ہے کہ اجزاء میں میل مستقیم ہے اور گل میں میل مستدیر۔
عــــــہ۱:شرح برجندی میں پہلے ہی فقرے کو ایك دلیل ٹھہرایا لطیف متشابہ الاجزاء سے نفی خلاف طبعیات ہے اور دوسرے فقرے کو دلیل سابق کا جزء ٹھہرایا کہ جرم کثیف کے لیے اثبات بیچا ہے کہ ہوا کہ فلك سے کم لطیف ہے وہ تو اجسام ارضیہ سے اشرع ہے تو حرکتِ مستدیرہ فلك ہی کو انسب انتہی اور اظہروہ ہے جو ہم نے کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع