30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں بھی مع مختصر کلام ذکر کردیں۔وباﷲ التوفیق وبہ استعین(اور توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہے اور اسی سے میں مدد چاہتا ہوں)۔
وہ دس ۱۰ عــــــہ تعلیلیں ہیں کچھ اسی رنگ کی جو گزریں اور ہم نے ان کی تصحیح و توجیہ کی،انہیں مقدم رکھیں کہ جنس مقارن جنس ہو اور کچھ خالص اصول فلسفہ قدیمہ پر مبنی جن کے شافی و کافی ابطال میں بعونہ تعالی ایك مستقل کتاب الکلمۃ الملھمہ جدا تصنیف کی یہاں پر حوالہ کافی۔واﷲ الموفق۔
تعلیل اوّل:دو کشتیاں برابر قوت سے چلیں،ایك مشرق ایك مغرب کو،اگر زمین متحرك اور دریا اس کا تابع ہو تو لازم کہ شرقی بہت تیز نظر آئے کہ دو حرکتوں سے جاری ہے ایك اپنی تحریك ملاح سے دوسری دریا کی حرکت ارض سے ہے،اور غربی بہت آہستہ کہ صرف اپنی حرکت سے جاری ہے اور اس پر معًا وقت حرکت شرقیہ دریا کا طرہ بلکہ چاہیے اس کی حرکت محسوس بھی نہ ہو،ہوا کو بھی اسی حرکتِ زمین سے متحرك ماننا نفع نہ دے گا اور شناعت بڑھے گا کہ اب شرقیہ تین طاقتوں سے جارہی ہے اور غربیہ پر دو طاقتیں مزاحم ہیں۔(ہدیہ سعیدیہ)
اقول:یہ دلیل ۹۱ کا عکس ہے وہاں ہوا کو تابع زمین نہ مان کر لازم کیا تھا کہ متحرك غربی سے شرقی سے بہت سست ہے بلکہ خود بھی غربی ہوجائے یہاں دریا و ہوا کو تابع مان کر یہ لازم کرنا چاہا ہے کہ متحرك شرقی سے غربی بہت سست ہے بلکہ اس کی حرکت محسوس بھی نہ ہو،یہاں بھی اس پر اقتصار کرنا نہ تھا اسی طرح کہنا تھا کہ بلکہ مغرب کو جانے والی مشرق کو جاتی معلوم ہو۔
اقول:عکس چاہا مگر نہ بنا،اصلًا وارد نہیں،زمین کو اگر حرکت اور دریا و ہوا کو اس کی تبعیت ہے تو اس میں جہال و استجار اور یہ کشتیاں اور ان کے اور باہر کے تمام انسان حیوان سب یکساں شریك ہیں تو اس سے ان میں تفاو ت نہیں پڑسکتا نہ کہ اس کے امتیاز کا ان کے پاس کوئی ذریعہ،کشتیاں اپنی چال سے
عــــــہ:پھر شرح حکمۃ العین میں ایك اور دلیل علیل(کمزور)دیکھی جس پر اس نے دوبارہ نفی حرکت اینیہ زمین اقتصار لیا۔
|
قال اوتحریك من الوسط حرکتہ اینیۃ یعرض ما یعرض لو لم تکن فیہ[1]ا ھ اقول:نعم:لولا القسرفان قلت لا یدوم اقول:اولا ممنوع و ثانیًا فلم تنتف ھو بل دوامھا۱۲ منہ غفرلہ" |
میں کہتا ہوں کہ آپ کی بات اس وقت قابل تسلیم ہے اگر قسر نہ ہو(سوال)قسر ہمیشہ تو نہیں رہے گا۔(جواب)(۱)یہ ممنوع ہے۔ (ہوسکتا ہی قسر دائمی ہو)(۲)حرکت اینیہ سرے سے منتفی نہ ہوئی بلکہ اس کا دام منتفی ہو۔(ترجمہ عبدالحکیم اشرف القادری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع