30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دلیل ۱۰۵:آدمی جب تیز ہوا میں اس کے سامنے آتا ہو،ہوا کو اپنی مدافعت کرتا پائے گا مگر یہاں مشرق و مغرب دونوں طرف چلنے میں کوئی احساس نہیں ہوتا۔
اقول:ان پانچ دلیلوں کا حاصل یہ ہے کہ چلتی ہوا اپنے سامنے کی شَے کو دفع کرتی ہے اور یہ مدافعت یہاں نہیں،لہذا ہوا کی حرکت مستدیرہ باطل،اور وہ حرکت زمین کو لازم تھی اور انتفائے لازم انتفائے ملزوم ہے تو حرکت ِ زمین باطل،مگر ہے یہ کہ معاونت اس وت حرکت اینیہ میں ہے جیسے پانی کی موجیں،ہوا کے جھونکے جس میں ہر لاحق مکان سابق میں آنا چاہتا ہے تو اسے دفع کرتا ہے اب اس ہوا یا پانی میں اگر مثلًا انسان چلے تو وہ ایسے مکان میں آیا جس پر لطمے اور صدمے متوالی چلے آتے ہیں لہذا اگر اس کا منہ ادھر کو ہے معاوقت پائے گا اور پشت تو معاونت،مگر حرکتِ وضعیہ حرکتِ واحدہ کل کرے کو عارض ہے نہ کہ اجزائے متفرقہ کی کثیر حرکات اینیہ متوالیہ کا مجموعہ کہ طبیعیات یونان میں جسم متصل وحدانی ہے اس میں بالفعل اجزاء ہی نہیں اور اگر اجزاء سے ترکب تو جب بھی حرکت وضعیہ میں تموج و تلاطلم آب و ہوا کسی طرح تدافع نہیں اس میں کوئی جز دوسرے کو دفع نہیں کرتا کہ دفع کرے کہ اپنی راہ میں کسی کو اپنی طرف آگے یا ساکن یا اپنی جہت میں اپنے سے کم چلتا پائے۔یہی تین صورتیں دفع کی ہیں اور وہ سب یہاں مفقود بلکہ سب اجزاء ایك ہی طرف کو یکساں چال سے اپنی اپنی جگہ قائم چلے جاتے ہیں تو جو جز جس جگہ بڑھنا چاہے اس سے پہلا جز اس کے وہاں پہنچنے سے پہلے اس کے لیے جگہ خالی کرچکا ہوگا اور جب یہاں تلاطم تدافع نہیں تو احساس کس کا ہوگا،اگر کہیے یہ تو کرے کی اپنی حالت ہوئی جب مثلًا انسان اس میں داخل ہوا تو تفرق اتصال بداہۃً ہوا اب ضرور ہے کہ آنے والا اسے دفع کرے۔
اقول:دفع تو جب کرے کہ یہ حصہ خود چلتا ہو،حصہ کوئی بھی نہیں چلتا کل کرہ متحرك ہے جس کے بعض اجزاء کی جگہ اب انسان ہے جسم اتصالِ اجزاء کے ماتحت ایك جزء دوسرے کو دفع نہ کرتا تھا اب اُسے بھی کوئی دفع نہ کرے گا۔
اگر کہے کلام اس میں ہے کہ وہ داخل مثل انسان اس حرکت کے خلافِ جہت ا س جسم میں چلے تو اس کا مزاحم ہوگا اور مزاحم کی مدافعت ضرور۔
اقول:جب متابع ہے مزاحم کہاں اس حرکت کے ساتھ خود چل رہا ہے اس کی مخالفت نہیں کرتا ہاں اپنی ذاتی حرکت سے پانی یا ہوا کو چیرتاہے اس میں جتنی معاونت ہوتی ہے ہوا کی ورنہ نہیں،بالجملہ یہاں اجزاء میں تدافع نہیں تو اس میں انسان جہاں داخل ہو یا چلے ایسے مکان میں ہوگا جس پر کسی طرف سے دفع نہیں اور اس پر حرکتِ منتظمہ نہیں خود اس کا شریك و تابع ہے تو کسی طرف نہ معاونت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع