30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گئے تھے ان کو کس نے ترچھا کیا۔اس میں کس کی حرکت بھردی تھی۔یونہی زمین پر بندق سیدھی رکھ کر فائر کرو کیا گولی اتر کر نالی میں آجائے گی۔یہ بدیہی باتیں ہیں پھر ان کے انحراف کی کوئی سمت نہیں۔یونہی جہاز سے بقوتِ تمام پھینکی نارنگی اگر آگے ہی کی طرف بقدر مناسب منحرف ہوئی ہاتھ میں آجائے گی ورنہ بتا سے اور ناڑی گولی کی طرح وہ بھی کہیں کی کہیں جائے گی اور کھل جائے گا کہ مسطول کے پتھر کی طرح یہ بھی تمہارا خواب تھا جہاز کے شیشوں کی طرح یہاں مباحث اور بھی ہیں مگر ہم جامع اعتراضات کریں جو سب مثالوں کے رد کو بس ہوں۔
فاقول اولا:جتنی مثالیں ہم نے دیں سب میں حرکت اینیہ میں قوتِ دفع ہے۔دیکھو دلیل(۸۷)تو ہر دفع مدفوع میں حرکت واحد کا میل ہوا ہے جس سے پھینکا ہوا پتھر متحرك ہوا ہے یہ حرکت جس طرح اب مزاحم کو دفع کرتی ہے اس کا متعلق بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں ہوتا۔گھوڑے کی سواری میں رگ رگ ہل جاتی ہے گاڑی میں ہال لگتی ہے جہاز میں غیر عادی کا سر گھومتا ہے غشیان ہوتا ہے۔بالفرض اگر وہ استعداد بوجہ شدت حرکت اس حدکو پہنچی کہ حرکت تھمنے یا جدا ہونے کے بعد کچھ رنگ لائے چیستاں عجب نہیں۔بعد ات اس لیے کہ ظہور از بعد عدم معدیت پتھر اس وقت متحرك ہوتا ہے جب ہاتھ کی وہ حرکت تھم جاتی ہے اور پتھر اس سے جدا ہوجاتا ہے ہواو آب کی حرکتِ وضیعہ دوبارہ دفع کا اس پر قیاس نہیں ہوسکتا۔حرکتِ وضعیہ عین ذاتیہ ہو خواہ عرضیہ اس کی تحقیق زیادات فضلیہ پر کلام میں آتی ہے قوتِ دافع نہیں اس میں کسی طرف کو بڑھنا نہیں کہ راہ میں جو پڑے اسے دفع کرے وہ اپنی رات میں خود ہی ہے دوسرا اگر اس کے ثخن میں اس طرح ہے کہ سب طرف سے اسے جرم کرہ سے اتصال ہے جیسے کرہ آب و ہوا میں ہوتا ہے تو اگر کرہ اسے اٹھا سکتا ہے وہ اس میں اٹھا ہوا چلا جائے گا۔خود اس میں نام کو جنبش نہ ہوگی ورنہ گر پڑے گا تو عظیم پتھر کہ ہوا کے اندر ہے جسے ہوا ایك آن کو بھی سہارا تك نہیں دے سکتی ہے محال عقل ہے کہ ساکن وقت میں جس وقت پتا بھی نہیں ہلتا ہوا اس سو من کی سل کو اپنی گود میں لے کر گھنٹے میں ہزار میل سے زیادہ اڑ جائے جب حرکت مستدیر پر اسے جو متحرك ثخن میں اسے بروجہ مذکور ہوا اصلًا جنبش نہیں دیتی تو وہ اثر کیا ہے جو پتھر کے سر میں بھر جائے گا اور بداہۃً محال ہے کہ پتھر خود بخود ہزاروں میل اڑنے لگے۔لاجرم مثالیں ہوئیں اور زمین کی حرکت باطل،اور اگر کہو کہ نہیں بلکہ حرکتِ مستدیرہ بھی دھکا دیتی ہے اور جو اس کے ثخن میں ہوا اسے بھی،یا نمبر ۳۳ میں ہماری تحقیق سے اخذ کردہ یہ حرکت وضیعہ نہیں بلکہ حرکات متوالیہ کا مجموعہ تو چشم ماروشن دل ماشاد و حرکت زمین و ہوا کا بوجوہ یہیں پر خاتمہ ہوگیا۔
یکم:ذرا سی آندھی جس کی چال گھنٹے میں تیس چالیس ہی میل ہو بڑے سے بڑے پیڑوں کو جڑسے اکھاڑ دیتی ہے۔قلعوں کو ہلا دیتی ہے۔یہ آٹھ پہر کی اتنی عظیم شدید آندھی گھنٹے میں ۱۰۳۶ میل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع