30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے مزعوم کی بناء دوباتوں پر ہے،آب و ہوا کی حرکت مستدیرہ کا حرکتِ زمین کے مساوی ہونا اور جو اشیاء ان میں ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ان کا اس حرکت میں ملازم آب و ہوا رہنا دونوں کا بطلان اس نے خود ظاہر کردیا۔
اولًا: تصریح کی جاتی کہ خطِ استوا کی ہوا زمین کے برابر حرکت نہیں کرسکتی،مغرب کی طرف زمین سے پیچھے رہ جاتی ہے۔(۱۹)
ثانیًا: یہ کہ ہوا ئیں جو قطبین سے تعدیل کے لیے آتی ہیں خطِ استوا کے برابر نہیں چل سکتیں،ناچار اُن کا رُخ بدل جاتا ہے۔(۱۱)
ثالثًا: یہ کہ جامد زمین محور پر گھومتی تو اُوپر کا پانی قطبین کو چھوڑ دیتا اور خطِ استواء پر اس کا انبار ہوجاتا۔(۲۰)
رابعًا: یہ کہ زمین ابتدا میں سیال تھی لہذا حرکت سے کُرہ کی شکل پر نہ رہی۔،قطبین پر چپٹی اور خطِ استواء پر اُونچی ہوگئی۔(۲۱)
خامسًا: فصل چہارم میں ہیئت جدیدہ کے شبہات حرکتِ ارض کے بیان میں آتا ہے کہ لیکن جو جنوبًا شمالًا متحرك ہو اسی سطح پر حرکت کرتا رہے گا اور زمین اس کے نیچے دورہ کرے گی۔وہ زمین کے ساتھ دائر نہ ہوگا تو ثابت ہوا کہ نہ ہوا و آب زمین کے ملازم رہتے ہیں نہ ان میں جو اجسام ہیں انکے تودونوں منبٰی باطل اور حرکت عرضیہ کا عذر زائل۔
جواب دوم:
ہیئت جدیدہ نے جب حرکت عرضیہ میں اپنی اماننہ پائی ناچار ایك ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰اور ادعائے عــــــہ باطل پر آئی کہ جو جسم کسی متحرك جسم میں ہو اس کی حرکت اسی قدر ان میں بھی بھرجاتی ہے یہاں تك کہ اس کی حرکت تھمنے پر بھی بلکہ اس سے جدا ہو کر بھی اس میں باقی رہتی ہے۔
اقول:یعنی پتھر ہوا میں بالعرض متحرك نہیں بلکہ یہ گھنٹے میں ہزار میل سے زیادہ مشرق کو بھاگنے اور ایك منٹ میں گیارہ سو میل سے زائد اوپر چڑھنے کا سودا خود پتھر کے سر میں پیدا ہوگیا ہے۔ انصاف والو !
عــــــہ:یہ ادعا مفتاح الرصد میں نقل کیا اور نمبر۱ حدائق میں بھی اس کی طرف میل ہوا اور نظارہ عالم ۲۱۔۲۲ میں اس پر بہت زور دیا جو مثالیں ہم کسی کتاب کی طرف نسبت نہ کریں وہ اسی سے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع