30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں برقرار رہتے ہیں جب تك اتنی قوی ہو کہ تفریق اتصال کردے اور لطیف سیال کے اجزاء ادنٰی حرکت معتد بہا سے متفرق ہوجاتے ہیں ہر گز اس نظام پر نہیں رہتے تو اتنی سخت قوی حرکت سے ہوا و آب کا منتشر ہوجانا لازم تھا نہ یہ کہ ہر جزء جس جزاء ارض کا محاذی تھا اس کے ساتھ رہے گویا وہ نہایت سخت جسم ہے جسے دوسرے سخت میں مضبوط میخوں سے جڑ دیا ہے،اِن بیانوں عــــــہ سے ظاہر ہوا کہ وہ حرکت عرضیہ اشیاء باتباع آب و ہوا کا عذرجس پر ہیئت جدیدہ کے اس گھروندے کی بناء ہے دو وجہ صحیح سے پادر ہوا ہے۔
واقول:اگر کچھ نہ ہوتا تو خود ہیئت جدیدہ نے اپنے دونوں منبٰی باطل ہونے کی صاف شہادتیں دیں۔
عــــــہ:یہ فصل سوم تمام و کمال لکھ لینے کے بعد جب کہ فصل چہارم شروع کرنے کا ارادہ تھا ولد ا عز مولوی حسنین رضا خان سلمہ،کے پاس سے شرح حکمۃ العین ملی اس میں د و دفع اور نظر آئے کہ دونوں رَدِّ اول ہیں۔صاحبِ کتاب نے انہیں نقل کرکے رَد کیا وہ یہ ہیں۔
دفع ہفتم:ہوا اس حرکت سے متحرك ہو تو ہمیں اس کی یہ حرکت محسوس ہو،رویہ جب ہو کہ ہم اسی حرکت سے متحرك نہ ہوں کشتی جتنی تیزی سے چلے،قطعًا وہ ہوا کہ اس میں بھری ہے اتنی تیزی سے اس کے ساتھ جاری ہے مگر کشتی نشین کو محسوس نہیں ہوتی یعنی جب کہ ہوا ساکن ہو اپنی حرکت ذاتیہ سے متحرك نہ ہو۔
دفع ہشتم:ابرو ہوا مغرب کو حرکت کرتے محسوس نہ ہوں،خصوصًا جب کہ چال نرم ہو بلکہ مغرب کو ان کی حرکت محال ہو کہ اتنا قوی شدید جھونکا انہیں مغرب کو پھینك رہا ہے۔
رَد ہوا کی کسی حرکت عرضیہ سے متحرك ہونا اس کے خلاف جہت میں ہے جسم کی نرم حرکت ذاتیہ اس شخص کا مانع نہیں ہوتا ورنہ سوار کشتی جہت کشتی کے خلاف نہ چل سکے کہ اندر کی ہوا سے حرکت میں بہت تیز ہے نہ وہ اس نرم حرکت کے احساس کو منع کرتا ہے اور نہ پتھر کہ کشتی کی ہوا میں خلافِ جہت پھینکیں چلتا نہ معلوم ہو نہ پنکھے کی ہوا محسوس جب کہ جہت خلاف کو جھلیں۔
اقول:یہ دونوں دفع وہی زیادات فضلیہ میں کہ عنقریب آتی ہیں جن کو ہم نے ہدیہ سعید یہ کی طبع راد خیال کیا تھا،دفع ہفتم بعینہ دلیل ۱۰۵ ہے اور ہشتم کے دونوں حصے دلیل ۱۰۱ و ۱۰۲،باقی دونوں بھی انہیں پر متفرع ہیں تو وہ پانچ ہیں یا انہیں دنوں سے ماخوذ ہیں،یا تو ارد ہوا اور ہم وہاں تحقیق کریں گے اگرچہ یہ دلیلیں جس طرح قائم کی گئیں ضرور ساقط ہیں مگر ان کی اور توجیہ وجیہ ہے جس سے شرح حکمۃ العین کے رَد مردود،فانتظر ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع