30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بڑھ نہ سکتا اور جب چسپاں نہیں تو کیا محال ہے کہ ہوا انہیں چھوڑ جائے اوپر پھینکا ہوا پتھر مغرب کو گرے وغیرہ استحالات(تحریر مجسطی)یہ جواب ضعیف ہے۔محال نہ ہونے سے وقوع لازم نہیں فلك الافلاك کی حرکت بھی تو بے حرکت دیگر افلاك محال نہیں مگر کبھی بے ان کے واقع نہیں ہوتی۔(شرح مجسطی)
اقول:افلاك کی حرکت عرضیہ ہونے کا رَدّ اوپر گزرا۔طوسی اتنا سفیہ نہ تھا کہ سوال پر سوال جواز کے مقابل جواز پیش کرتا۔مقصود یہ ہے کہ امورِ عادیہ کا خلاف بلاوجہ وجیہ محض شاید ولیکن سے نہیں مانا جاتا۔عادت یہ ہے کہ جو شے دوسری سے ضعیف علاقہ رکھتی ہو حرکت میں ہمیشہ اس کی ملازم نہیں رہتی بلکہ غالب چھوٹ جانا ہی ہے۔تنکوں کو دیکھتے ہیں کہ ہوا انہیں اڑاتی ہے کچھ دور چل کر گر جاتے ہیں،پھرپتھروں کا کیا ذکر،لیکن کبھی اس کے خلاف نہیں ہوتا۔جب سے عالم آباد ہے کبھی نہ سنا گیا کہ پتھر پھینکا اوپر ہوا اور گرا ہو ہزاروں گز مغرب میں،اسی طرح باقی استحالے اب کبھی ہوا تو تاریخیں اس سے بھری ہوتی۔یہ ہر خلاف عادت دوام محض امکان کی بنا پر نہیں ہوسکتا اگر وجوب نہیں تو ضرور بحکم عادت اس کا خلاف بھی تھا بلکہ وہی اکثر ہوتا اوراگر وجوب ہے تو وہ یوں ہی مقصود کہ پتھر ہوا میں چسپاں ہو اور اس کا بطلان بدیہی۔یہ اس تقریر کی غایت توجیہ ہے۔اور اگر چسپاں ہونے سے ہوا میں استقرار مراد لیا جائے تو بے شك صحیح ہے مگر اس وقت وہی دفع سوم ہے۔
دفع ششم:سوم کا رَد کہ ہوا نہایت نرم و لطیف ہے،ادنٰی اثر سے اس کے اجزاء متفرق ہوجاتے ہیں۔تو اگر وہ حرکت عرضیہ کرے بھی تو ضرور نہیں کہ زمین کے ساتھ ہی رہے تو جو اس وقت ہوا میں کسی موضع زمین کے محاذی ہے کچھ دیر کے بعد کیونکر اس موضع کا محاذ ہی رہے گا۔
اقول:سوم کی طرح یہ دفع بھی صحیح ہے۔فقط۔اولًا: حرکت سے عرضیہ کی قید ترك کرنی چاہیے کہ اعتراض نہ ہو کہ ان سے نزدیك ہوا کی یہ حرکت ذاتیہ ہے۔
ثانیًا: ضرور نہیں کہ جگہ یہ کہنا چاہیے کہ ساتھ نہ رہے گی کہ وہ مستدل و مانع کی بحث پیش نہ آئے اور خود آخر میں کہا کیونکہ محاذی رہے گا۔نہ یہ کہ محاذی رہنا ضرور نہ ہوگا۔اگر کہیے ساتھ نہ رہے گی۔کیا ثبوت۔
اقول:عقلِ سلیم و مشاہد دونوں شاہد اور خود عــــــہ ہیئت جدیدہ کو تسلیم ہے کہ کثیف منجمد کے اجزاء حرکت
عــــــہ:ص ۱۱۵۔اگر تم کسی جسم سیال کو ہلاؤ تو اس کی ہمواری میں خلل انداز ہوگےقاعدہ کلیہ ہے اور تین میں جزئیات کی تصریحیں آتی ہیں،۱۲ غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع